ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2017 |
اكستان |
|
علمی مضامین سلسلہ نمبر١٤ قسط : ٩،آخری ''خانقاہِ حامدیہ''نزد جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ لاہورکی جانب سے محدث ، فقیہ، مؤرخ، مجاہد فی سبیل اللہ،مؤلف کتب کثیرہ شیخ الحدیث حضرت اَقدس مولانا سیّد محمد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم مضامین جو تاحال طبع نہیں ہوسکے اُنہیں سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ اُن کی نوع بنوع خصوصیات اِس بات کی متقاضی ہیں کہ اِفادۂ عام کی خاطر اُن کو شائع کردیا جائے۔ اِسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اَخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں۔ (اِدارہ)حیاتِ مسلم پیدائش سے وفات تک سنن مستحبا ت، بدعات و مکروہات ( شیخ الحدیث حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب )مزارات پر حاضری : آنحضرت ۖ کا ارشادِ گرامی ہے :کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْھَا فَاِنَّھَا تُذَکِّرُ الْآخِرَةَ۔ (ابن ماجہ ) ''میں نے تم کو زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت نہیں ہے لہٰذا زیارت کرسکتے ہو کیونکہ قبریں آخرت کو یاد دلاتی ہیں۔ '' ارشادِ گرامی میں جس طرح زیارت کی اجازت دی مقصد بھی ظاہر فرمادیا کہ قبر دیکھ کر آخرت یاد آتی ہے اس مقصد کے لیے عورتوں کو بھی اجازت ہے لیکن جو عورتیں چراغ جلانے یا منت وغیرہ کا مقصد لے کر جاتی ہیں وہ شرعًا ناجائز ہے ان کو آنحضرت ۖ نے ''زَوَّارَاتُ الْقُبُوْرِ '' سے تعبیر فرمایا کہ ان کی زیارت حد سے بڑھی ہوئی ہے اور ان پر لعنت فرمائی :