ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2017 |
اكستان |
|
(یعنی تین بار اجازت چاہی) مگر آپ نے جواب نہیں دیا اس لیے واپس لوٹ آیا (کیونکہ) مجھ سے رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہاِذَا اسْتَئْاذَنَ اَحَدُکُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہ فَلْیَرْجِعْ ١ ''اگر تم میں سے کسی کوتین دفعہ اجازت چاہنے سے اجازت نہ ملے تو واپس ہو جائے۔'' حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس پر کوئی گواہ پیش کرو ، چھوٹی عمر کے ایک صحابی حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ حضرت عمر کے پاس چلا گیا اور (اس حدیث کی) گواہی دی۔ ایک مرتبہ حضرت صفوان بن اُمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے (ماں شریک) چھوٹے بھائی حضرت کلدہ کو آنحضرت ۖ کی خدمت میں کچھ تحائف دے کر بھیجا، آپ اُس وقت ایک وادی میں اُونچی جگہ تشریف فرما تھے، حضرت کلدہ فرماتے ہیں کہ جب میں آنحضرت ۖ کے پاس حاضر ہوا تو نہ سلام کیا اور نہ ہی اجازت طلب کی، اس پر آپ نے فرمایااِرْجِعْ فَقُلْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَاَدْخُلُ ٢ یعنی واپس جاؤ اور پھر یہ کہو '' السلام علیکم '' کیا میں داخل ہو سکتا ہوں ؟ مطلب یہ ہے کہ سلام کرو ا ور اندر آنے کی اجازت طلب کرو گویا آپ کویہ پسندنہ تھا کہ کوئی کسی سے بغیر سلام کہے ملے اور اجازت حاصل کیے بغیر اُس کے پاس جائے۔ آپ نے جہاں اُمت کو ان باتوں کی تعلیم فرمائی وہاں خود بھی ان پر عمل فرماتے رہے خود ایسے موقعوں پر اجازت طلب فرماتے اور سلام کرتے، آپ جب کہیں تشریف لے جاتے تودروازے کے بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک طرف کوہو کر کھڑے رہتے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ دروازے میں درازیں ہوں اور اچانک اندر نظر چلی جائے یا ہو سکتا ہے کہ دروازہ کھل جائے اور کھلتے ہی کسی کا سامنا ہوجائے اس لیے آپ خود بہت احتیاط رکھتے تھے۔ ایک تابعی حضرت عطاء ابن یسار رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ۖ سے عرض کیا کہ کیا میں اپنی والدہ سے بھی اجازت حاصل کروں ؟ (اس آدمی کے گھر میں ان کی والدہ ------------------------------١ مشکوة شریف کتاب الاداب رقم الحدیث ٤٦٦٧ ٢ مشکوة شریف رقم الحدیث ٦٧١