ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2013 |
¾اكستان Ù |
|
اِمام بخاری ،اِمام اِسحاق رحمة اللہ علیہما کے پاس پڑھ رہے تھے تو اُستاد نے ایک حدیث بیان کی اِس کی سند میں ایک نام آیا عطاء کیخارانی ۔ اِسحاق نے شاگردوں سے پوچھا کہ یہ راوی کون صاحب ہیں ؟ شاگرد خاموش رہے۔ اِمام بخاری نے جواب عرض کیا کہ ''کیخاران '' '''یمن'' میں ایک شہر کا نام ہے حضرت معاویہنے وہاں اُن صحابی کو بھیجا تھا جن سے عطاء نے اَپنے شہر کیخاران میں یہ روایت سنی۔ اِسحاق بہت خوش ہوئے اُنہوں نے بخاری کو دَاد دی فرمایا کَأَنَّکَ شَھِدْتَّ الْقَوْمَ ایسا لگتا ہے جیسے تم نے اُن لوگوں کو دیکھا ہے۔ گویا اِن علوم میں تاریخ اَور جغرافیہ کی بھی اَز حد ضرورت ہوتی ہے اِسی لیے جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ اَور اُن جیسے بہت سے علماء نے اِجتہاد کی ہمت نہیں کی۔ اِمام بخاری ،ذہبی ،اِبن حجر رحمة اللہ علیہم حدیث کے مجتہد تھے اِن کا فتوی حدیث کے بارے میں چلتا تھا کہ صحیح ہے یا ضعیف وغیرہ۔ اِستنباط ِ مسائل میں یہ فقیہ شمار نہیں ہوئے۔ اِتنے علم کے ساتھ اَگر فقاہت اَور عامة المسلمین کے سب مسائل حل کرنے کی قوت بھی پائی جا رہی ہو تو وہ'' مجتہد کامل'' شمار ہو سکتا ہے۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی متقی شخص آج اِتنا بڑا عالم اَور فقیہ یعنی تمام مسائل کے اِستخراج میں با اُصول رہ کر دین کی گہرائیوں اَور باریکیوں تک پہنچنے والا بھی ہو تو اُس کے اِجتہاد کو سب علماء مان لیں گے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ نے اِجتہاد کی شرط اِن الفاظ میں بتلائی ہے : حَتّٰی بَلَغَ عَیْنَ الشَّرِیْعَةِ الْاُوْلٰی '' یعنی اُس کی وسعتِ علمی اَور اِستحضار کا یہ عالم ہوجائے کہ جیسے وہ شریعت کے اِبتدائی دَور میں پہنچ گیا ہو۔''