ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2013 |
¾اكستان Ù |
|
اَنبیائِ سابقین کی شریعت منسوخ نہیں ہوتی ہے۔ (٨) حضرت نے ( وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی) کے معنی بیان فرمائے کہ یہاں ضَآلًّا کا معنی گمراہ کے نہیں ہیں بلکہ ضَآلًّا کے معنی لا علم کے ہیں ۔ترجمہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ناواقف کار پایا تو واقف کار بنادیا۔ (٩) ( اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ )کے بارے میں اِرشاد فرمایا کہ ''اَلْمَوْتُ'' کو اَوَّلًا اِس وجہ سے ذکر کیا ہے کہ اِنسان اَپنی حیاتِ دُنیاوی کو عارضی سمجھے اَور موت سے غافل نہ ہو۔ لطائف ِ علمی : (١) دَرسِ بخاری شریف میں ایک طالب علم نے سوال کیا کہ مکہ معظمہ کی کھجوریں عنایت فرما دیجیے، اِرشاد فرمایا کیا مکہ معظمہ میں کھجوریں پیدا ہوتی ہیں ؟ اَور یہ آیت تلاوت فرمائی : ( رَبَّنَا اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍٍ ) اے ہمارے رب! میں اَپنی اَولاد کو ایک بنجر وادی میں آباد کرتا ہوں۔ اِس اِرشاد ِ گرامی کا یہ مطلب ہے کہ مکہ میں کھجوریں نہیں پیدا ہوتیں اِس لیے مکہ کی کھجوروں کا مطالبہ صحیح نہیں ہے۔ (٢) ایک طالب علم نے سوال کیا کہ جن حضرات نے رسول اللہ ۖ کو اِیمان کی حالت میں دیکھا ہے وہ صحابہ ہیں ،کیا خواب میں دیکھنے کا بھی یہی حکم ہے ؟ اِرشاد فرمایا جی ہاں ! وہ خوابی صحابی ہیں۔ (٣) ایک صاحب نے حضرت سے عرض کیا حضور! آپ پنکھا کرنے کو منع فرماتے ہیں حالانکہ اِمام بخاری رحمہ اللہ نے حالت ِ خواب میں رسول اللہ ۖ کو پنکھا کیا ہے۔ اِرشاد فرمایا : آپ بھی مجھے خواب میں پنکھا کردینا۔ بھائی !میں بیداری کا ذکر کرتا ہوں اَور آپ خواب کا۔ (٤) سورت میں ایک صاحب نے حضرت کو شریفہ پیش کیا اَور عرض کیا : ھٰذِہِ الشَّرِیْفَةُ لَا یَأْکُلُھَا اِلَّا الشُّرَفَائُ ۔ یہ شریفہ ہے اِس کو شریف حضرات ہی کھاتے ہیں۔(باقی صفحہ ٤١)