Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2003

¾اكستان Ù

36 - 65
صفحہ نمبر 35 کی عبارت
 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ )میری ملاقات ابن صیاد سے ہوئی۔ اس کی آنکھ سُوجی ہوئی تھی ۔میں نے پوچھا تیر ی آنکھ خراب دیکھتا ہوں یہ کب خراب ہوئی ۔اس نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا تجھے معلوم نہیں حالانکہ وہ تیرے ہی سر میں تو ہے(یعنی تیرے اپنے جسم کا اتناقریبی اور حساس حصہ ہے پھر بھی تجھے معلوم نہیں )اس نے جواب دیااگر اللہ چاہیں تو (ایسی کوئی )بات (یعنی سوجن اور ورم ) تمہاری لاٹھی میں پیدا فرمادیں (اور تمہیں خبر بھی نہ ہو حالانکہ یہ بھی تو تمہارے کتنے قریب ہے پھر اس نے بری طرح کی آواز نکالی (جو )گدھے کی سی سخت آواز کی طرح (تھی)جو میں نے سنی ہو۔
عن ابی سعید الخدری قال لقیہ رسول اللّٰہ ۖ وأبوبکر وعمر یعنی ابن صیاد فی بعض طرق المدینة فقال لہ رسول اللّٰہ ۖ اتشھد أنی رسول اللّٰہ فقال ہواتشھد انی رسول اللّٰہ فقال رسول اللّٰہ ۖ آمنت باللّٰہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ ماذا تری قال أرٰی عرشا علی المائِ فقال رسول اللّٰہ ۖ ترٰی عرش ابلیس علی البحرقال وما تٰری قال أرٰی صادقین وکاذبا أوکاذ بین وصادقا فقال رسول اللّٰہۖ لبس علیہ فدعوہ (مسلم)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مدینہ منورہ کے کسی راستہ میں رسول اللہ  ۖ  اور ابوبکررضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ابن صیاد سے ہوئی (جبکہ وہ قریب البلوغ تھا)۔رسول اللہ  ۖ نے اس سے پوچھا کیا توگواہی دیتاہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔اس نے جواب میں کہا (میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اُمیوں یعنی عربوں کے رسول ہیں ۔پھر کہا )کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں (بھی ) اللہ کا رسول ہوں ۔آپ  ۖ نے فرمایا میں تو اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں (میرے بعد تو کوئی نبی ورسول ہی نہیں لہٰذا میں تجھے نبی نہیں مانتا ۔پھر چونکہ آپ نے اس کے بارے میں سنا تھا کہ وہ غیر معمولی طور پر بڑبڑاتا ہے اورکچھ غیر معمولی باتیں کرتا ہے تو تحقیق حال کے لیے آپ  ۖ نے اس پوچھا کہ )تو کیا دیکھتا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں پانی پر عرش دیکھتا ہوں۔ آپ  ۖ نے فرمایا (تیری بات کی حقیقت یہ ہے کہ )تو سمندر پر ابلیس کا عرش دیکھتا ہے (کیونکہ وہ اپنا عرش وہیں لگاتا ہے) آپ نے پوچھا تو (اس کے علاوہ ) اور کیا دیکھتا ہے ۔اس نے جواب دیا کہ

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
69 اس شمارے میں 3 1
70 حرف آغاز 4 1
71 درس حدیث 6 1
72 .فضائل حضرت فاطمہ وحسن وحسین رضی اللہ عنہم 6 71
73 حضرت ابوبکر کا دوراور حضرت علی و حسن : 7 71
74 بِاَبِیْ کامطلب : 7 71
75 جدید حاشیہ قرآن کریم پر ایک تحقیقی نظر 8 1
76 دونوںمیں فرق : 10 75
77 پہلا فرق : 10 75
78 دوسرا فرق : 10 75
79 تیسرا فرق : 11 75
80 (١) حکومت اسرائیل : 11 75
81 (٢) حکومت اسرائیل : 12 75
82 (٣) روضۂ نبوی : 13 75
83 (٤) فقہی مدارس : 14 75
84 (٥) چارمصلے : 15 75
85 (٦) بریلوی غیر مقلد گٹھ جوڑ : 17 75
86 (٧) دین میں ناحق غلو جائز نہیں : 18 75
87 (٨) ولادت مسیح علیہ السلام : 18 75
88 (٩) قادیانیوں پر نظرعنایت : 19 75
89 (١٠) علماء حق پر الزام تراشی : 20 75
90 شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حُسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ 22 1
91 جنگِ عظیم،ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت 22 90
92 ـ اہلِ مدینہ کی وفادار 22 90
93 اہلِ مدینہ ترکوں کے خلاف بغاوت میں کیوں شریک نہ ہوئے : 23 90
94 حضرت مدنی قدس سرہ کی حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ سے بے مثال عقیدت : 23 90
95 حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کا تعلق مع اللہ، اتباعِ سنت اور تبحرِ علمی : 25 90
96 دورانِ درس : 26 90
97 ایثار و توکل کی تعلیم : 27 90
98 بیعت اور پردہ کی پابندی : 27 90
99 کلماتِ بیعت : 28 90
100 بیعت کی اصل : 28 90
101 بیعت کی حدیث : 29 90
102 سخاوت وشجاعت : 30 90
103 وتبتل الیہ تبتیلا (قرآن حکیم )آپ کا عمل اس آیت کی تفسیر تھا : 31 90
104 ڈاڑھی نہ رکھنے پر خفگی : 32 90
105 عرضِ حال 33 1
106 فہمِ حدیث٭قیامت او ر آخرت کی تفصیلات 34 1
107 ابن صیاد کی حقیقت : 34 106
108 دینی مسائل٭نماز کی شرطوں کا بیان 39 1
109 (٥) استقبالِ قبلہ : 39 108
110 استقبال ِقبلہ کی ضروری حد کیا ہے ؟ : 39 108
111 مکہ مکرمہ سے دُور شہروں میں سمت ِقبلہ اور جہتِ استقبال معلوم کرنے کا شرعی طریقہ : 40 108
112 (٦) نماز کے وقتوں کا بیان : 41 108
113 نمازوں کے مستحب اوقات : 42 108
114 وہ اوقات جن میں نماز پڑھنا منع ہے : 44 108
115 متفرقات : 45 108
116 مبارک ہو تم کو 46 1
117 تحریکِ احمدیت 47 1
118 نوٹووچ کاقصہ : 50 117
119 فری میسن فرقہ : 51 117
120 مسیح کے مصلوب کرنے کاایک چشم دید گواہ : 52 117
121 عالمی خبریں 54 1
122 دیکھو بش کو! 54 121
123 مسلمانوں شرمائو مت 54 121
124 ٭کولمبیا کی تباہی کی ذمہ دار کلپنا چاولا 56 121
125 ٭بھارت میںگُردوں کامحلہ 57 121
126 وفیات 58 1
127 جناب حاجی مبین احمد صاحب کو صدمہ 58 126
128 تقریظ وتنقید 60 1
Flag Counter