ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2003 |
¾اكستان Ù |
|
صفحہ نمبر 35 کی عبارت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ )میری ملاقات ابن صیاد سے ہوئی۔ اس کی آنکھ سُوجی ہوئی تھی ۔میں نے پوچھا تیر ی آنکھ خراب دیکھتا ہوں یہ کب خراب ہوئی ۔اس نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا تجھے معلوم نہیں حالانکہ وہ تیرے ہی سر میں تو ہے(یعنی تیرے اپنے جسم کا اتناقریبی اور حساس حصہ ہے پھر بھی تجھے معلوم نہیں )اس نے جواب دیااگر اللہ چاہیں تو (ایسی کوئی )بات (یعنی سوجن اور ورم ) تمہاری لاٹھی میں پیدا فرمادیں (اور تمہیں خبر بھی نہ ہو حالانکہ یہ بھی تو تمہارے کتنے قریب ہے پھر اس نے بری طرح کی آواز نکالی (جو )گدھے کی سی سخت آواز کی طرح (تھی)جو میں نے سنی ہو۔ عن ابی سعید الخدری قال لقیہ رسول اللّٰہ ۖ وأبوبکر وعمر یعنی ابن صیاد فی بعض طرق المدینة فقال لہ رسول اللّٰہ ۖ اتشھد أنی رسول اللّٰہ فقال ہواتشھد انی رسول اللّٰہ فقال رسول اللّٰہ ۖ آمنت باللّٰہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ ماذا تری قال أرٰی عرشا علی المائِ فقال رسول اللّٰہ ۖ ترٰی عرش ابلیس علی البحرقال وما تٰری قال أرٰی صادقین وکاذبا أوکاذ بین وصادقا فقال رسول اللّٰہۖ لبس علیہ فدعوہ (مسلم) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مدینہ منورہ کے کسی راستہ میں رسول اللہ ۖ اور ابوبکررضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ابن صیاد سے ہوئی (جبکہ وہ قریب البلوغ تھا)۔رسول اللہ ۖ نے اس سے پوچھا کیا توگواہی دیتاہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔اس نے جواب میں کہا (میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اُمیوں یعنی عربوں کے رسول ہیں ۔پھر کہا )کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں (بھی ) اللہ کا رسول ہوں ۔آپ ۖ نے فرمایا میں تو اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں (میرے بعد تو کوئی نبی ورسول ہی نہیں لہٰذا میں تجھے نبی نہیں مانتا ۔پھر چونکہ آپ نے اس کے بارے میں سنا تھا کہ وہ غیر معمولی طور پر بڑبڑاتا ہے اورکچھ غیر معمولی باتیں کرتا ہے تو تحقیق حال کے لیے آپ ۖ نے اس پوچھا کہ )تو کیا دیکھتا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں پانی پر عرش دیکھتا ہوں۔ آپ ۖ نے فرمایا (تیری بات کی حقیقت یہ ہے کہ )تو سمندر پر ابلیس کا عرش دیکھتا ہے (کیونکہ وہ اپنا عرش وہیں لگاتا ہے) آپ نے پوچھا تو (اس کے علاوہ ) اور کیا دیکھتا ہے ۔اس نے جواب دیا کہ