ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2003 |
¾اكستان Ù |
|
صفحہ نمبر 36 کی عبارت میں دو سچوں کو (جو مجھے سچی خبریں بتاتے ہیں )اور ایک جھوٹے کو دیکھتا ہوں (جو مجھے جھوٹی خبر دیتا ہے یا دو جھوٹے اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔آپ ۖنے فرمایا اس پر بات خلط ہوئی ہے اوراس کو جھوٹ سچ کی کوئی تمیز نہیں )۔اس کو چھوڑدو (اس کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں)۔ عن ابی سعید الخدری قال صحبت ابن صیاد الی مکة فقال لی مالقیت من الناس یزعمون انی الدجال الست سمعت رسول اللّٰہ ۖ یقول انہ لا یولد ولد وقد ولد لی ولد الیس قد قال ھو کافروانا مسلم اولیس قد قال لایدخل المدینة ولامکة وقد اقبلت من المدینة وانا ارید مکة ثم قال لی فی آخر قولہ اما واللّٰہ انی لا علم مولدہ ومکانہ واین ھوواعرف اباہ وامہ قال فلبسنی قال قلت لہ تبا لک سائرالیوم قال وقیل لہ ایسرک انک ذاک الرجل قال فقال لوعرض علی ماکرھت (مسلم) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (ایک سفر میں مدینہ منورہ سے )مکہ مکرمہ تک میں ابن صیاد کے ساتھ رہا ۔اس نے کہامیں نے لوگوں سے بڑی عجیب بات سنی ۔وہ کہتے ہیں کہ میں دجال ہوں (حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے اور اس کے خلاف چند دلائل یہ ہیں )کیا آپ نے رسول ۖ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ دجال کی اولاد نہ ہوگی جب کہ میری اولاد ہے ۔کیا نبی ۖ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہو گا جب کہ میں مسلمان ہوں اور کیا آپ ۖ نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال نہ مدینہ میں داخل ہوگا اور نہ مکہ میں جب کہ میںمدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ جا رہاہوں ۔(یہ دلائل دینے کے بعد )پھر آخرمیں ابن صیاد نے کہا اللہ کی قسم میں اُس کی ولادت کے وقت کو بھی جانتا ہوں اور اُس کی جگہ کو بھی جانتا ہوںاور یہ کہ( اِس وقت) وہ کہاں ہے اس کو بھی جانتا ہوںاور اس کے ماں باپ کو بھی پہنچانتاہوں ۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میرا بھی خیال تھا کہ وہ دجال ہوگا لیکن جب اس نے مجھے حدیثیں سنائیں تو )میں شک میں پڑ گیا (پھر جب اس نے کہا کہ دجال کے بارے میں وہ سب کچھ جانتا ہے او ر اس کی یہ بات اس وقت سچ ہو سکتی تھی جب وہ خود ہی دجال ہو)تو میں نے کہا تیرے لیے باقی دن میں بربادی ہو( تو تو بات کو بہت خلط ملط کرتا ہے اور دجل سے کام لیتا ہے ۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ابن صیاد سے کسی نے کہا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو دجال ہی ہوتا ، اس نے جواب دیا کہ دجال ہونے کی