ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2003 |
¾اكستان Ù |
|
فیھما فقلنا ھل لکما ولد فقالا مکثنا ثلا ثین عاما لا یولد لنا ولد ثم ولد لنا غلام اعوراضرس واقلہ منفعة تنام عیناہ ولا ینام قلبہ قال فخرجنا من عندھما فاذا ھومنجدل فی الشمس فی قطیفة ولہ ھمھمة فکشف عن راسہ فقال ماقلتماقلنا وھل سمعت ماقلنا قال نعم تنام عینای ولا ینام قلبی (ترمذی ) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیںرسول اللہ ۖ نے فرمایا دجال کے والدین کے ہاں (نکاح کے بعد )تیس سال تک اولاد نہ ہو گی پھر ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو ایک آنکھ سے کاناہوگا ، اس (کی کچلی )کا دانت غیر معمولی بڑا ہوگا اور وہ (اپنے والدین اور دیگر لوگوں کے لیے)بے فائدہ ہو گا (نیند میں )اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن اس کا دل بیدار ہو گا۔پھر رسول اللہ ۖنے ہم سے اس کے والدین کے کچھ اوصاف ذکر کیے۔فرمایا اس کا باپ بہت لمبا ، کم گوشت (یعنی دبلا ) ہوگا ، اس کی ناک ایسی ہوگی گویا چونچ ہے۔ اس کی ماں خوب ڈیل ڈول والی اور لمبے لمبے ہاتھوں والی ہوگی ۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے مدینہ کے یہود میں اسی طرح کے ایک بچے کے بارے میں سنا تو میں اور زبیر بن عوام (رضی اللہ عنہ)اس کے والدین کے پاس گئے تو جو باتیں (دجال کے والدین کے بارے میں )آپ ۖنے فرمائیں تھیں وہ ان میں تھیں ۔ہم نے اُن سے پوچھا کیا تمہارا کوئی بچہ ہے انہوں نے بتایاکہ شادی کے تیس سال تک ہماری کوئی اولادنہیں ہوئی ۔پھر ہمارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو ایک آنکھ سے کانا ہے ، اس (کی کچلی ) کادانت خاصا بڑا ہے اور وہ (ہمارے )کسی کام کا نہیں ہے(نیند میں ) اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل بیدار رہتا ہے۔ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر ہم ان کے پاس سے نکلے تو ابن صیاد کو دھوپ میں زمین پر ایک چادر میں پڑے پایا اور وہ کچھ بڑ بڑا رہا تھا ۔ابن صیاد نے اپنے سر سے چادر ہٹائی اور ہم سے پوچھا تم دونوں نے کیا کہا تھا ۔ ہم نے پوچھا کیا جو بات ہم نے کی تو نے سن لی تھی اس نے جواب دیا کہ ہاں(کیونکہ نیند میں )میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل بیدار رہتا ہے (اور اس کے ساتھ یا تو کان بھی کام کرتے رہتے ہیں یا پھر جنات بتا دیتے ہیں)۔ عن ابن عمرقال لقیتہ وقد نفرت عینہ فقلت متٰی فعلت عینک ما اری قال لا ادری قلت لا تدری وھی فی رأسک قال ان شاء اللّٰہ خلقھا فی عصاک قال فنخرکاشد نخیرحمار سمعت (مسلم)