ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2017 |
اكستان |
|
ہنس پڑیں (ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کو غم کے بعد اتنی جلدی خوش ہوتے نہیں دیکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ان کو روتا دیکھ کر میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ آپ روکیوں رہی ہیں حالانکہ پیغمبر علیہ السلام نے تمام ازواجِ مطہرات کون چھوڑ کر آپ سے سرگوشی کی ہے) اس کے بعد جب مجلس ختم ہوئی تو میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ آپ سے پیغمبر علیہ السلام نے کیا سرگوشی کی تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں پیغمبر علیہ السلام کے راز کو ظاہر نہیں کروں گی، پھر جب نبی اکرم علیہ السلام کی وفات ہوگئی تو میں نے حضرت فاطمہ سے ان پر اپنے حقِ قرابت کا حوالہ دے کر درخواست کی کہ وہ اُس دن کی سرگوشی کے بارے میں ضرور بتائیں تو حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ ہاں ! اب میں بتاؤں گی، پھر بتانا شروع کیا اور فرمایا کہ ''جب پہلی مرتبہ آپ ۖنے سرگوشی کی تو یہ فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآنِ پاک کا دور فرماتے تھے اس مرتبہ اُنہوں نے دو مرتبہ دور فرمایا اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میرے دنیا سے پردہ فرمانے کا وقت قریب آگیا ہے، اس لیے بیٹی ! اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرتی رہنا کیونکہ میں تمہارے لیے بہتر سلف (آگے جانے والا) ہوں۔'' چنانچہ میں روپڑی، جیسا کہ آپ نے اس دن دیکھا، پھر جب آپ نے میری بے قراری محسوس کی تو دوسری مرتبہ سرگوشی کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ ''بیٹی ! کیا تم اِس پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں تمام مؤمن عورتوں کا یا اِس اُمت کی عورتوں کا سردار بنادیا جائے ؟ اور ایک روایت میں ہے کہ کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہیں اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار بنادیا جائے ؟ '' یہ سن کر مجھے ہنسی آگئی، جیساکہ آپ نے اُس دن دیکھا۔ ١ ------------------------------١ مسلم شریف رقم الحدیث ٢٤٥٠ و بخاری شریف رقم الحدیث ٣٦٢٣