دوسری طرف انھوں نے یونانی فلسفہ کا گہرا اور وسیع مطالعہ کیا تھا، اور علوم حکمت و تصوف سے علمی و عملی واقفیت رکھتے تھے، انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کو رواج دیا اور اس دولت کو جو ہندوستان کے لئے" کنز مخفی" تھی عام کیا، انھوں نے ابن تیمیہؒ اور محدثین کا اس وقت دفاع کیا، جب ان کانام لینا بھی مشکل تھا، اور اسلام اور شریعت اسلامی کے مقاصد و اسرار پر ایسی مجتہدانہ کتابیں لکھیں جن کی نظیر عالم اسلام کا وسیع کتب خانہ بھی آسانی سے پیش نہیں کر سکتا ۱۔
شاہ صاحبؒ، ان کے ہم مسلک اور ان کے پایہ کے علماء اسلامی عقائد کی تشریح و تفہیم اور اس کو پیش کرنے کے لئے سب سے زیادہ اہل و موزوں تھے، کیونکہ وہ "لفظیت" اور "تاویل" کے درمیان راہِ اعتدال پر قائم ہیں، ان کی کتاب " العقیدۃ الحسنۃ" مطالب کی گہرائی اور عبارت کی سلاست و روانی دونوں کی جامع ہے، یہ کتاب علم توحید ( جس کو عام طور پر علم کلام سے موسوم کیا جاتا ہے) کا ایک ایسا متن ہے، جس میں اہل سنت کے عقائد کا وہ لُب لباب آ گیا ہے، جس سے ہر اس پڑھے لکھے مسلمان کو واقف ہونا چاہئے، جو اپنے تئیں اہل سنت میں شمار کرتا ہو، اور ان کے عقائد کو اپنا شعار بنانا چاہتا ہو، اسی لئے اس باب میں اسی کو بنیاد بنایا گیا ہے، سلف کی بعض دوسری قابل اعتماد کتابوں ( جیسے "عقیدۃ الطحاوی") اور عقائد کے سلسلہ کی بعض معتبر کتابوں سے بھی استفادہ، اور کتاب کے مطالب میں اضافہ کیا گیا ہے۔
بنیادی اسلامی عقائد۔
اس کارخانۂ قدرت کا ایک "قدیم " صانع ہے، جو ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا،
------------------------------
۱ مثلاً حجۃ اللّٰہ البالغۃ، ازالۃ الخفاء، الفوز الکبیر ۔