دین (اسلام) کا مزاج اور اس کی نمایاں خصوصیات
اس کائنات میں ہر زندہ اور متحرک شے کا ایک خاص مزاج، کچھ نمایاں خصوصیات، اور ابھرے ہوئے خط وخال ہوتے ہیں، جن سے اس کی شخصیت کی تشکیل اور اس کا تعین ہوتا ہے، اور وہ اس کی صفات ممِّیزہ قرار پاتی ہیں، اس میں افراد، جماعتیں، ملّتیں اور قومیں، مذاہب اور فلسفے یکساں طور پر شریک ہیں، وہ سب اپنی کچھ امتیازی خصوصیات اور نمایاں علامات رکھتے ہیں، اس لئے یہ دریافت اور تحقیق حق بجانب ہے، کہ اس دین (اسلام) کی صفات ممَِّیزہ اور اس کی شخصیت کے صحیح خط وخال کیا ہیں؟ دین کی تفصیلات تعلیمات، ہدایات اور معین قوانین و ضوابط کے مطالعہ اور جستجو سے پہلے ہمیں اس حقیقت سے باخبر ہوجانا چایئے، کیونکہ دین سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے، اور اس کے رنگ میں رنگ جانے کے لئے یہی فطری طریقہ، اور اس کے قفل کی شاہ کلید ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اس حقیقت کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ دین ہم تک حکیموں اور دانش وروں، ماہرین قانون، علمائے اخلاق و نفسیات، کشور کشا اور قانون ساز، بانیانِ سلطنت، خیالی گھوڑے دوڑانے والے فلاسفہ، اور طالع آزما سیاسی رہنماؤں اور ملکوں اور قوموں کے قائدین کے ذریعہ نہیں پہونچا، یہ دین ہم تک انبیائے کرام علیہ السلام کے ذریعہ