اس کا وجود حتمی، اور اس کا معدوم ہونا محال ہے، وہ تمام صفاتِ کمال سے مُتّصف، اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے، تمام معلومات اس کے علم میں ہیں، تمام ممکنات پر وہ قادر، اور تمام کائنات اسی کے ارادہ سے ہے، وہ حیات سے متصف ہے، سمیع ( سننے والا) ہے، بصیر ( دیکھنے والا) ہے، اس کا کوئی شبیہ ہے، نہ اس کا کوئی مقابل اور ہم سر، وہ بے مثل ہے، اس کا کوئی مدد گار نہیں، واجب الوجود ہونے، اور عبادت کے مستحق ہونے، اور تمام مخلوقات کی پیدائش، اور پوری کائنات کے انتظام و انصرام میں اس کا کوئی شریک و معین نہیں، عبادت ( یعنی غایت تعظیم و تقدیس) کا صرف وہی مستحق ہے، صرف وہی ہے، جو مریض کو شفا دیتا، مخلوق کو رزق عنایت فرماتا، اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے، اس کی شان ہے:۔
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ہ (سورۂ یٰس ۔۸۲)
اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، تو اس سے فرما دیتا ہے "ہو جا" تو ہو جاتی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ حلول و اتحاد سے پاک ہے، ( وہ نہ کسی دوسرے کے قالب میں اتر جاتا ہے، نہ کسی سے مُتّحد ہوتا ہے) اس کی ذات و صفات حدوث ۱ سے مبرّا ہیں، وہ نہ جوہر ۲ ہے، نہ عرض ۳، نہ جسم ، وہ کسی جگہ اور سمت میں محدود نہیں ہے، وہ عرش کے اوپر ہے ( مستوی علی العرش ہے) قیامت کے دن مومنوں کو اس کا دیدار ہوگا، جو وہ چاہتا ہے سو ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا
------------------------------
۱ صفات کے اپنے متعلقات کے ساتھ تعلق میں تو حدوث پایا جاتا ہے، لیکن اصل صفات ذات کی طرح حدوث سے پاک ہیں، ۲ جوہر وہ چیز ہے جو اپنی ذات سے قائم ہو، اور کسی حیّز میں ہو۔ ۳ عرض وہ چیز ہے، جو کسی ایسے محل کا محتاج ہو جس پر وہ قائم ہوسکے ۔