کر دیا گیا ہے کہ عقاید و شریعت، اور دنیا میں جن چیزوں پر سعادت کا، اور آخرت میں نجات کا دراومدار ہے، ان کی مکمل تعلیم دی جا چکی، اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًاہ (سورۂ احزاب۔۴۰)
محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں، بلکہ خدا کے پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں، اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
اور قرآن نے "عربی مبین" میں صاف صاف کہدیا کہ یہ دین اپنے کمال، انسانی ضرورتوں اور تقاضوں کی تکمیل اور بقائے دوام کی صلاحیت کی آخری منزل پر پہونچ چکا، اور فرما دیا گیا۔
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ؕ ( سورۂ المائد،۳)
آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا، اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں، اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
یہ آیت عرفات کے دن حجّۃ الوداع کے موقعہ پر ۰۱ھ میں نازل ہوئی، بعض ذہین یہودی علماء جو قدیم مذاہب کی تاریخ سے واقف تھے، بھانپ گئے کہ یہ وہ اعزاز ہے، جو تنہا مسلمانوں کو بخشا گیا ہے، اور یہ اسلام کا طرّۂ امتیاز ہے، جس میں کوئی مذہب و ملت شریک نہیں، انھوں نے امیر المؤمنین حضرت ابن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ سے کہا کہ اے امیر المومنین آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت تلاوت کرتے ہیں، جو اگر ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس روز عید مناتے ۔۱
------------------------------
۱ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کہاں، اور کب نازل ہوئی، اور رسول اللّٰہ صلے اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کہاں تشریف فرما تھے ، وہ عرفات کا دن تھا ( بخاری کتاب التفسیر (باقی ۱۵پر )