رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نبوت کا انقطاع و اختتام، انسانیت کا اعزاز اور اس کے ساتھ رحمت و شفقت کا نتیجہ تھا، اور اس کا اعلان تھا کہ اب انسانیت سن بلوغ اور پختگی و کمال کے مرحلہ کو پہونچ گئی، اور اپنے اس تنگ دائرہ سے نکل چکی ہے، جس میں وہ صدیوں تک رہی تھی، اب وہ علم و تمدن، باہمی تعارف، عالمی وحدت، اور تسخیر کائنات کے مرحلہ میں داخل ہو رہی ہے، اور اس کی امید پیدا ہو گئی ہے کہ وہ طبیعیاتی رکاوٹوں، جغرافی تقسیم، اور علیحدگی پسندی کے رحجانات پر قابو حاصل کر لے گی، قوم و وطن کے بجائے اب وہ کائنات، وسیع انسانیت، عالمگیر ہدایت، اور مشترک علم و فن کے مفہوم سے آشنا ہو رہی تھی، اور زندگی کے میدان میں طبعی قوتوں، قدرتی وسائل، عقل مؤمن و قلب سلیم اور مشترک جدوجہد سے کام لینے کے لئے تیار ہو رہی تھی۔
زمانۂ قدیم میں اس حقیقت کے گنجلک ہونے، حق و باطل کی آمیزش، اور کثرت سے ایسی دعوتوں کے وقتاً فوقتاً ظہور کی وجہ سے جو آسمان کے ساتھ تعلق خاص، اور آسمانی تعلیمات کے براہ راست حاصل کرنے کی غلط طریقہ پر مدعی تھیں، لوگوں کو ایمان لانے کی دعوت دیتیں، اور اسی بنیاد پر ان کو مومن و کافر کے طبقوں میں بانٹتی تھیں، سابقہ امتوں اور قوموں کے بڑے مصائب اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، یہودی اور مسیحی دنیا میں ایسے مدعیان نبوت کا پیدا ہونا ایک فیشن بن گیا، اور وہ وقت کا ایک اہم مسئلہ بن گئے، جس نے ذہنی اور دینی توانائیوں کو کوئی اور مفید کام کرنے کے بجائے اس مسئلہ کے حل کرنے میں مشغول کر لیا، یہودی اور مسیحی معاشرے میں انتشار افراتفری، اور نفسیاتی
------------------------------
( باقی ص 50 کا) یعنی ہمیں کسی نئے جشن کی ضرورت نہیں، وہ دن عید کا دن تھا، اور اسلام بڑے بڑے واقعات پر دوسرے مذاہب کی طرح جشن و عید منانے کا دین نہیں ہے۔