اس عشق رسول سے ان علمائے راسخین، مصلحین و مجددین، زعماء و قائدین کو بہزۂ وافر ملا، جنھوں نے دین کی حقیقی روح کو اپنے اندر جذب کر لیا تھا، اور جن کے مقدر میں دین و ملت کے احیاء و تجدید کا اہم کارنامہ انجام دینا تھا، اس پاک محبت کے بغیر جو شرعی احکام و آداب کے تابع و اسوۂ صحابہؓ کے اتباع و تقلید کے ساتھ ہو، اسوۂ رسول کی کامل پیروی و اتباع جادۂ شریعت پر استواری، نفس کا دیانت دارانہ محاسبہ، اور ”عسر و یسر“ اور طبیعت کی آمادگی و گرانی (نشط و کرہ) میں خدا اور رسول کی فرمانبرداری ممکن نہیں، یہی (کثیر النوع) نفسیاتی امراض کا علاج، تزکیۂ نفس اور اصلاح اخلاق کا مؤثر ذریعہ ہے، محبت کی ایک لہر خس و خاشاک کو بہا لے جاتی ہے، اور رگ و ریشہ، اور جسم و جان میں اس طرح دوڑ جاتی، اور جذب ہو جاتی ہے۔؏
شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم
مسلمان جو کبھی خدا اور رسول کے عشق کی بدولت شعلۂ جوالہ تھے، اس کے بغیر چوب خشک اور سرد خاکستر بنے ہوئے ہیں
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں خاک کا ڈھیر ہے
۷۔ اس دین کی ایک خصوصیت اس کی کاملیت اور دوام ہے، کیونکہ یہ اعلان
------------------------------
(باقی۴۸ کا) خاتون کے شوہر بھائی اور باپ غزوۂ احد میں کام آئے، جب ان کو اس حادثہ کی اطلاع دی گئی تو زبان سے بےاختیار یہ نکلا کہ بتاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ الحمدللہ آپؐ خیریت سے ہیں، انھوں نے کہا مجھے دیدار کرا دو، جب ان کی نظر چہرۂ مبارک پر پڑی تو بول اٹھیں ”آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ ہے“ (ابن ہشام) ابو دجانہؓ نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلئے ڈھال بنا دیا (بخاری) اور حضرت ابو طلحہؓ نے اپنے ہاتھ کو سپر بنا دیا یہاں تک کہ وہ حرکت و استعمال کے قابل نہیں رہا۔(الاصابہ)