رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے بارے میں ایك مسلمان سے اس سے كچھ زیادہ مطلوب ہے، جس كو صرف قانونی اور ضابطہ كا تعلق كہا جاتا ہے، اور جو محض ظاہری اطاعت سے پورہو جاتا ہے، بلكہ وہ پاس و ادب، محبت اور تشكر و امتنان كا جذبہ بھی مطلوب ہے، جس كے سر چشمے دل كی گہرائیوں سے پھوٹنے ہوں، اور جور وریشہ میں سرایت كر گیا ہو اسی پر پر محبت احترام، اور احترام آمیز محبت قرآن نے ’’تعزیر‘‘ و توقیر‘‘ كے لفظ سے ادا كیا ہے۔
اس كی مدد كرو، اور اس كو بزرگ سمجھو۔
اس كی تابندہ اور روشن مثالیں غزوہٴ رجیع كے موقع پر حضرت خبیب ابن عدی، اور زید ابن الدثنہ كے واقعہٴ غزوہ اُحُد كے موقعہ پر او دجانہ اور حضرت طلحہ نكے طرز عمل، غزوہٴ احد میں بنی دینار كی مسلمان خاتون كے جواب صلح حدیبیہ كے موقع پر رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم كے ساتھ صحابہ كرم كی والہانہ محبت، اور ادب و احترام میں دیكھی جا سكتی ہیں، جن كی بناء پر ابو سفیان (جو اس وقت تك مسلمان نہیں ہوئے تھے) كی زبان سے بے ساختہ نكلا كہ ’’میں نے كسی كو كسی سے اس طرح محبت كرتے ہوئے نہیں دیكھا، جس طرح محمدؐ كے ساتھیؐ سے محبت كرتے ہیں‘‘ اور قریش كے قاصد عُروہ بن مسعود ثقفی نے كہا كہ ’’قسم بخدا میں نے كسریٰ اور قیصر كے دربار بھی دیكھے ہیں، میں نے كسی بادشاہ ایسی عزت ہوتے ہوئے نہیں دیكھی،جس طرح محمدؐ كے ساتھی محمدؐ كی عزت كرتے ہیں‘‘۱؎
------------------------------
۱؎پورے واقعات سیرت كی كتابوں میں ملاحظہ فرمائے جائں، زید ابن الدثنہ كو جب قتل گاہ میں لے جایا جارہا تھا، تو ابو سفیان نے ان سے كہا كہ كیا تم یہ پسند كرو گے كہ محمدؐ تمہاری جگہ پر ہوں، اور تم ابنے گھر میں مامون و محفوظ ہو؟‘‘ حضرت زید نے كہا ‘‘ خدا كی قسم مجھے تو یہ بھی منظور نہیں كہ محمدؐ جہاں ہیں، وہیں ان كے كوئی كانٹا بھی چبھے، اور میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوں‘‘ (سیرت ابن ہشام ق ۲ص۱۷۲) بنی دینار كی ایك مسلمان (باقی ص ۴۹ پر)