آپ کی ذات کے ساتھ صرف ضابطہ اور قانون کا تعلق کافی نہیں، روحانی اور جذباتی تعلق اور ایسی گہری اور دائمی محبت مطلوب ہے، جو جان و مال، اہل و عیال کی محبت پر فوقیت لے جائٍے، صحیح حدیث میں آیا ہے:
"لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين ". (1)
اس وقت تک تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوگا جب تک میں اس کو اپنی اولاد، والدین، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں.
دوسری حدیث میں ہے :
" لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه". (2)
تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہ ہو گا جب تک میں اسے اپنی ذات سے زیادہ عزیز و محبوب نہ ہوں.
اس سلسلے میں ان تمام مخالف اسباب ومحرکات سے محفوظ و محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو اس محبت کے سوتوں کو خشک یا اس کو کمزور کرتے ہیں، جذبات و احساسات محبت میں افسردگی، سنت پر عمل کرنے کے جذبہ میں کمزوری، اور آپ کو "دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل" سمجھنے میں تردد، اور سیرت و حدیث کے مطالعہ سے رو گردانی اور بے توجہی کا سبب بنتے ہیں، سورہ احزاب، سورہ حجرات، اور سورہ فتح وغیرہ قرآنی سورتوں کے غایر مطالعہ اور تشہد و نماز جنازہ میں درود و صلٰوۃ کی شمولیت پر غور و فکر، قرآن میں درود کی ترغیب اور درود کی فضیلت میں بکثرت وارد ہونے والی احادیث کا راز سمجھنے کا یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ
------------------------------
(1) بخاری ومسلم
(2) مسند احمد