وعادات كا اختیار كرنا لوگوں كو انبیاء كے رنگ میں رنگ دیتا ہے، اور یہ وہ رنگ ہے، جس كے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے۔
صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ
(كہہ دو كہ ہم نے) خدا كا رنگ (اختیار كر لیا) اور خدا سے بہتر رنگ كس كا ہوسكتا ہے، اور ہم اس كی عبادت كرنے والے ہیں۔
ایك عادت كی دوسری عادت، ایك اخلاق كے دوسرے اخلاق، ایك طور طریق كے دوسرے طور طریق پردین و شریعت میں ترجیح كا یہی راز ہے، اسی وجہ سے اس كو شریعت اسلامی اہلِ ایمان كا شعار، فطرت كے تقاضہ كی تكمیل، اور اس كے خلاف طریقوں كو فطرت سلیم سے انحراف، اور اہلِ جاہلیت كا شعار قرار دیتی ہے، اور ان دونوں طریقوں كو اور راستوں میں (باوجود اس كے كہ اس طرف بھی عقل و خرد ركھنے والے متمدن انسان ہیں، اور اس طرف بھی) محض اس بات كا فرق ہے كہ ایك خدا كے پیغمبروں اور اس كے محبوب بندوں كا اختیار كیا ہوا ہے، دوسرا ان لوگوں اور قوموں كا جن كے پاس ہدایت كی روشنی اور آسمانی تعلیمات نہیں ہیں، اس اصول كے تحت كھانے پینے، كاموں میں دائیں بائیں ہاتھ كا فرق، لباس و زینت، رہنے سہنے اور تمدن كے بہت سے اصول آجاتے ہیں، اور یہ سنت سنت نبویؐ اور فقہ اسلامی كا ایك وسیع باب ہے۔ ۱؎
جہاں تك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی ذات گرامی كا تعلق ہے، وہاں اس پہول پر اور زیادہ زور دینے اور اس كا زیادہ اہتمام كرنے كی ضرورت ہے،
------------------------------
۱؎ تفصیل كے لیے ملاحظہ ہو مصنف كی كتاب ’’منصبِ نبوتؐ اور اس كے بلند مقام حاملین‘‘ ص۱۱۸۔۱۲۰