اور دشمن کا دوست دشمن سمجھا جاتا ہے، خاتم النبیین صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے کہلایا گیا:۔
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿آل عمران: ٣١﴾
اے پیغمبر (لوگوں سے) کہدو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو، تو میری پیروی کرو، خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا، اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
اس کے برعکس جو ظلم پر کمر باندھے ہوئے، اور کفر کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں، ان کی طرف دل کا میلان، ان کے طریقِ حیات کی ترجیح، اور ان سے صوری و معنوی مشابہت، اللہ کی غیرت کو حرکت میں لانے والی، اور اللہ سے بندے کو دور کرنے والی بتائی گئی ہے، فرمایا گیا:۔
وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ﴿هود: ١١٣﴾
اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں دوزخ کی آگ آ لپٹے گی، اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہو گئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔
ان پیغمبرانہ مخصوص عادات و اطوار کا نام شریعت کی زبان اور اصطلاح میں ”خصال فطرت“ اور ”سنن الہدےٰ“ ہے، جس کی شریعت تعلیم و ترغیب دیتی ہے، ان اخلاق