کوئی مطلب نہیں، وہ اپنے کاموں اور اختیارات میں بالکل آزاد ہیں، اور ان قوموں کا تعلق جن کی طرف انبیاء کرام مبعوث ہوئے، اپنے انبیاء اور رُسل سے محض وقتی اور قانونی تعلق ہوتا ہے، ان کو ان کی سیرت، طور طریق، ذوق ورحجان اور ان کی انفرادی و عائلی زندگی سے کوئی دل چسپی نہیں، یہ وہ غلط، بےبنیاد اور ادھورا تصور ہے، جو ان حلقوں میں رائج تھا، جو نبوت و انبیاء کے بلند مقام سے ناواقف تھے، اور ہمارے اس دور میں ان حلقوں میں پھیلا ہوا ہے، جو مقام سُنت سے ناواقف اور حدیث اور اس کی حجیت کے منکر ہیں، اور جن پر مذہب کے مسیحی تصورات کا اثر، اور مغربی طرز فکر کا غلبہ ہے۔
اس کے برخلاف حقیقت یہ ہے کہ انبیائے کرام پوری انسانیت کے لیے اسوہ کامل، اعلیٰ قابلِ تقلید نمونہ، اور اخلاق، ذوق و رجحان، رد و قبول، اور وصل و فصل کے بارے میں سب سے مکمل اور آخری معیار ہوتے ہیں، وہ مورد عنایات الہٰی اور مرکز الطاف وتجلیات ہوتے ہیں، ان کے اخلاق و عادات، اور ان کی زندگی کا طور و طریق سب خدا کی نظر میں محبوب ہیں، زندگی کے طریقوں میں ان کا طریق حیات، انسانوں اور جماعتوں کے اخلاق میں ان کے اخلاق، اور لوگوں کی گوناگوں عادتوں میں ان کی عادتیں اللہ کے نزدیک پسندیدہ بن جاتی ہیں، انبیاء جس راستہ کو اختیار کرتے ہیں، وہ راستہ خدا کے یہاں محبوب بن جاتا ہے، اور اس کو دوسرے راستوں پر ترجیح حاصل ہوتی ہے، صرف اس وجہ سے انبیاء کے قدم اس راستہ پر پڑے ہیں، ان کی تمام پسندیدہ چیزوں اور شعائر اور ان سے نسبت رکھنے والی اشیاء اور اعمال سے اللہ کی محبت اور پسندیدگی متعلق ہو جاتی ہے، ان کا اختیار کرنا، اور ان کے اخلاق کی جھلک پیدا کرنا، اللہ کی محبت و رضا سے سرفراز ہونے کا قریب ترین اور سہل ترین راستہ ہوجاتا ہے، اس لیے کہ دوست کا دوست دوست،