بندہ سے صرف اتنا مطلوب ہے کہ وہ اس کو اپنا حاکم اعلیٰ، اور آمر مطلق سمجھ لے، اور اس کے اقتدار اعلیٰ میں کسی کو شریک نہ کرے، بلکہ اسماء و صفات، اور ان افعال الٰہی کے ذکر کا جن سے قرآن شریف بھرا ہوا ہے، اور ان آیات کا جن میں خدا تعالےٰ سے محبت۱ و تعلق اور بکثرت اور ہمیشہ اس کے ذکر کی ترغیب آئی ہے، صاف تقاضہ یہ معلوم ہوتا ہے، کہ اس سے دل و جان سے محبت کی جائے، اور اس کی طلب و رضا میں جان کھپا دی جائے اس کے حمد و ثنا کے گیت گائے جائیں، اٹھتے بیٹھتے اس کے نام کا وظیفہ پڑھا جائے، اسی کی دھن ہر وقت دل و دماغ میں سمائی رہے، اسی کے خوف سے انسان ہر وقت لرزاں اور ترساں رہے، اسی کے سامنے دست طلب ہر وقت پھیلا رہے، اسی کے جمال جہاں آرا پر ہر وقت نگاہیں جمی رہیں، اسی کی راہ میں سب کچھ لٹا دینے، مٹا دینے، حتیٰ کہ سر کٹا دینے کا جذبہ بیدار رہے۔
۶۔ دین کے مزاج اور اس کی نمایاں خصوصیات کی اس بحث کے سلسلہ میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام جن کے سر گروہ خاتم النبیین محمد الرسول اللہ صلےاللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی ہے، ان کا مخلوق سے اور ان قوموں سے جن کی طرف وہ بھیجے جاتے ہیں، چٹھی رساں (پوسٹ مین) اور ڈاکیہ جیسا تعلق نہیں ہوتا، جس کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ خطوط اور ڈاک مرسل الیہم تک پہونچا دے، پھر اسے ان لوگوں سے کوئی سروکار نہیں، اور ان لوگوں کو اس درمیانی واسطہ اور قاصد سے
------------------------------
۱ مثلاً ”وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ“ اور ”يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ“ اور وہ آیات ملاحظہ ہوں، جن میں ذکر اللہ کی ترغیب و تاکید ہے، اور انبیاء علیہم السلام کی محبت الٰہی، شوق اور تڑپ، اور عزیز ترین چیزوں کی قربانی کا ذکر ہے۔