نہ پاکیزہ تمدن کی بنیاد پڑ سکتی ہے، یہ خیال اپنی جگہ صحیح ہے، اور ایک تاریخی واقعہ جس کی پوری انسانی تاریخ شہادت دیتی ہے، لیکن انبیاء کا طریق اور ان کی سیرت، اسی طرح ان کے نائبین کا طریق کار اس سے مختلف ہے، ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے، کہ انبیاء کے طریق دعوت و تبلیغ میں یہ ایمان، وجدانی کیفیت، اور قلبی جذبہ اور درد مندی کے ساتھ ہوتا ہے، اور دوسرے طریقہ میں وہ ایک ضابطہ اور ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے، اور اخلاقی و معاشرتی ضرورت کی حد تک ہی اس کی تلقین کی جاتی ہے، اور دونوں میں جو فرق ہے، وہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔
۵۔ پانچواں امر یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدائے تعالےٰ ہی حاکم حقیقی اور فرماں روائے مطلق ہے، اور شریعت سازی اس کا حق ہے، اس کا ارشاد ہے:۔
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ﴿يوسف: ٤٠﴾
خدا کے سوا کسی کی کوئی حکومت نہیں ہے۔
وہ فرماتا ہے:۔
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ ﴿الشورى: ٢١﴾
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کےلئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔
لیکن در حقیقت خالق و مخلوق، اور عبد و معبود کا تعلق، حاکم و محکوم، آمر و مامور اور ایک بادشاہ اور رعیت کے تعلق سے کہیں زیادہ وسیع، کہیں زیادہ عمیق، کہیں زیادہ لطیف، اور کہیں زیادہ نازک ہے، قرآن مجید نے اللہ تعالےٰ کے اسماء و صفات کو جس تفصیل کے ساتھ اور جتنے دل آویز طریقہ پر بیان کیا ہے۱ ، اس کا مقصد قطعاً یہ نہیں معلوم ہوتا کہ
------------------------------
۱ بطور مثال سورہ حشر کی آخری آیات ”هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ“ سے ”وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ“ تک پڑھئے۔