لیکن اس آسانی، تدریج اور تیسیر کا تعلق تعلیم و تربیت اور جزوی مسائل سے تھا، جن کا عقائد اور دین کے بنیادی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں، جن باتوں کا تعلق عقائد، اور حدود اللہ سے ہے، ان میں ہر دور کے انبیاء کرام فولاد سے زیادہ بے لچک، اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں.
٤- نبوت کی امتیازی خصوصیات، اور انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کے خط خال میں ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ ان کا اصل زور آخرت کی زندگی، اور اس کی کامیابی اور سعادتوں کے حصول پر ہوتا ہے، وہ اس کا اس کثرت سے تذکرہ کرتے ہیں، اور اس کا اس درجہ اہتمام و فکر، کہ وہ ان کی دعوت کا مرکزی نقطہ اور محور بن جاتی ہے، صاف ذہن کے ساتھ ان کے واقعات اور اقوال کا مطالعہ کرنے والا صاف محسوس کرتا ہے کہ آخرت ان کا نصب العین ہے، اور ان کے لیے ایک مرئی اور بدیہی حقیقت ہے، یہ بات ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے، اور اس کا یقین ان کے احساسات، اور فکر و دماغ پر چھایا ہوا نظر آتا ہے، اللہ تعالٰی نے اپنے مؤمن و مطیع بندوں کے لیے آخرت میں جو نعمتیں مقدر کر رکھی ہیں، اور کافروں اور نافرمانوں کے لیے وہاں جو عذاب مقرر فرما دیا ہے، اس کا ہمہ وقت خیال ہی وہ حقیقی محرک ہے، جو ان کو عقیدہ کی تصحیح، زندگی کی اصلاح، اور رشتہء عبودیت کی استواری کی دعوت پر ابھارتا ہے، وہ ان کو بے چین رکھتا، اور ان کی راتوں کی نیند، اور دن کا اطمینان اس طرح اڑادیتا ہے، کہ ان کو کسی پہلو قرار نہیں آتا.
سیرت کا ہر ذہین مطالعہ کرنے والا، یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ انبیاء کی ایمان بالآخرۃ کی دعوت، اور اس کی اہمیت کی تبلیغ و تشہیر، صرف اخلاقی یا اصلاحی ضرورت کے تحت نہیں تھی، جس کے بغیر اسلامی معاشرہ کیا کوئی صالح معاشرہ بھی وجود میں نہیں آسکتا،