آپ نے حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یمن بھیجتے ہوئے وصیت فرمائی ”يسّرا ولا تعسّرا، بشّرا ولا تنفّرا“ (آسانی پیدا کرنا سختی نہ کرنا، خوشخبری دینا متوحش نہ بنانا) اور خود اللہ تعالےٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:-
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ﴿آل عمران: ١٥٩﴾
(اے محمدؐ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کےلئے نرم واقع ہوئی ہے، اور اگر تم بدخو اور سخت دل واقع ہوتے تو یہ سب تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ سے بالعموم فرمایا ”إنَّما بُعِثْتُمْ مُيَسْرينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ“ (تمہیں آسانی پیدا کرنے کےلئے اٹھایا گیا ہے، دشواری پیدا کرنے کےلئے نہیں اٹھایا گیا ہے۔)
اس سلسلہ کے نصوص و دلائل بےشمار ہیں جن کا احاطہ مشکل ہے۲ ، انبیائے سابقین کی بھی یہی شان رہی ہے، متعدد انبیاء کا ناموں کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے آخر میں فرمایا گیا:-
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ﴿الأنعام: ٨٩﴾
یہ وہ لوگ تھے، جن کو ہم نے کتاب اور فیصلہ کن رائے قائم کرنے کی صلاحیت اور نبوت عطا فرمائی تھی۔
------------------------------
۱ بخاری ج۱ ۳۵ ۔ ۲ اس موضوع پر حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ ج۱ کے ”باب التیسیر“ کا مطالعہ کیا جائے۔