اس کا مطلب یہ نہیں کہ انبیائے کرام دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں حکمت سے کام نہیں لیتے، اور لوگوں کے فہم و ادراک کے مطابق بات نہیں کرتے، حاشا و کلّا، یہ تو قرآنی نصوص، اور سیرت طیبہ کے بیسیوں واقعات کے منافی ہے، اللہ تعالےٰ کا ارشاد ہے:-
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ﴿ابراهيم: ٤﴾
اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہ اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تا کہ انھیں (احکامِ خدا) کھول کھول کر بتا دے۔
زبان کا مفہوم یہاں چند جملوں اور الفاظ میں محدود نہیں، وہ اسلوب، طرز کلام، اور طریق تفہیم سب پر حاوی ہے، اس کا دل کش نمونہ حضرت یوسفؑ کی جیل میں اپنے دونوں ساتھیوں سے پند و موعظت، حضرت ابراھیمؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کے اپنی اپنی قوم اور اپنے اپنے دور کے بادشاہوں سے مکالمے میں نظر آتا ہے۱ ، اللہ تعالےٰ نے اپنے آخری نبیؐ اور آپ کے توسط سے قرآن کے ہر قاری، اور اسلام کے ہر داعی و مبلغ کو یہ ہدایت فرمائی ہے:-
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴿النحل: ١٢٥﴾
اے پیغمبر! لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ، اور بہت اچھے طریقے سے ان سے مناظرہ کرو۔
نبی اکرم صلےاللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام ؓ کو جب دعوت و تبلیغ کہ مہم پر روانہ فرماتے، تو نرمی، شفقت، سہولت و آسانی پیدا کرنے اور بشارت دینے کی وصیت فرماتے،
------------------------------
۱ اس موعظت و مکالمہ کے نفسیاتی و ادبی تجزیہ کےلئے ملاحظہ ہو مصنف کی کتاب ”دعوت و تبلیغ کا معجزانہ اصلوب“ شائع کردہ ”مجلس تحقیقات اسلام-لکھنؤ“