زور کا تھپڑ مارا، فزاری نے حضرت عمرؓ کے یہاں بڑی نالش کی، امیرالمومنین نے جبلہ کو بلا بھیجا وہ جب آیا تو اس سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ اس نے کہا کہ ہاں امیرالمومنین اس نے میرا تہبند کھولنا چاہا تھا۔ اگر کعبہ کا احترام مانع نہ ہوتا تو میں اس کی پیشانی پر تلوار کا وار کرتا، حضرت عمرؓ نے فرمایا، تم نے اقرار کر لیا، اب یا تو تم اس شخص کو راضی کر لو، ورنہ میں قصاص لوں گا، جبلہ نے کہا آپ میرے ساتھ کیا کریں گے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں اس سے کہوں گا کہ تمہاری ناک پر ویسی ہی ضرب لگائے جیسی تم نے اس کی ناک پر لگائی، جبلہ نے حیرت و استعجاب سے کہا کہ امیرالمومنین! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ ایک عام آدمی ہے، اور میں اپنے علاقہ اور قوم کا تاجدار ہوں، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اسلام نے تم کو اور اس کو برابر کر دیا، اب سوائے تقویٰ اور عافیت کے کسی اور چیز کی بنیاد پر تم اس سے افضل نہیں ہو سکتے، جبلہ نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ میں اسلام قبول کر کے جاہلیت کے مقابلہ میں زیادہ باعزت و با اعتبار ہو جاؤں گا، حضرت عمرؓ نے فرمایا، یہ باتیں چھوڑو، یا تو اس شخص کو راضی کرو ورنہ قصاص کے لئے تیار ہو جاؤ۔
جبلہ نے جب حضرت عمرؓ کے یہ تیور دیکھے تو عرض کیا کہ مجھے آج رات غور کرنے کا موقع دیا جائے، حضرت عمرؓ نے اس کی درخواست منظور کی، رات کے سناٹے اور لوگوں کی لاعلمی میں جبلہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو لے کر شام کی طرف روانہ ہو گیا، صبح مکہ میں اس کا پتہ نشان نہ تھا، ایک زمانہ کے بعد جب جثامہ بن مساحق کنانی سے جو اس کے دربار میں شریک ہوئے تھے، حضرت عمرؓ نے اس کے شاہانہ کروفر کے حالات سنے تو صرف یہ فرمایا ”وہ محروم رہا‘ آخرت کے بدلے دنیا خرید لی، اس کی تجارت کھوٹی رہی“۔۱
------------------------------
۱ فتوح البلدان بلاذری باختصار ۱۴۲، و تاریخ ابن خلدون ج۲ ۲۸۱