ہوتے ہیں اور نہ کسی حکم پر عمل، کسی کی سفارش اور اثر سے موقوف و ملتوی رکھتے ہیں، وہ قریب و بعید، یگانہ و بیگانہ سب پر یکساں طریقہ پر اللّٰہ تعالیٰ کے حدودو احکام کا نفاذ کرتے ہیں، چنانچہ قبیلۂ بنی مخزوم کی ایک خاتون کے بارے میں جس سے چوری کا جرم سرزد ہوا تھا، اسامہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ (جن پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی خاص شفقت و عنایت تھی) سفارش کرنے کے لئے حاضر ہوئے، تو آپ نے غضبناک ہو کر فرمایا کہ " کیا اللّٰہ کے متعین کردہ حدود کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟" پھر آپ نے تقریر فرمائی جس میں فرمایا،"اے لوگو! تم سے پہلے امّتیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی باوجاہت شخص اور خاندانی آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے، اور کوئی کمزور اور معمولی آدمی چوری کرتا، تو اس پر حد نافذ کرتے، قسم ہے خدائے پاک کی، اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے گی تو میں اس کا ہاتھ کاٹنے سے دریغ نہ کروں گا۔"۱
یہی وہ غیرت ہے، جو انبیاء کرام کے اصحاب و نائیبین میں منتقل ہوئی، انھوں نے بھی کامیابی اور ناکامی، اور سودو زیاں سے آنکھیں بند کر کے قرآنی تعلیمات، شرعی احکام ، اور اسلام کے اصول و ضوا بط کی حفاظت کی، تاریخ میں اس کی شاندار مثال فاروق اعظمؓ کا وہ واقعہ ہے، جو جبلہ ابن ایہم غسّانی کے ساتھ (جو شاہانِ آل جفنہ کے سلسلہ کی اہم کڑی تھا) پیش آیا، وہ قبیلہ عکّ و غسّان کے پانچسو ۰۰۵ افراد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا، جب وہ مدینہ میں داخل ہوا تو کوئی دوشیزہ اور پردہ نشین عورت ایسی نہ تھی، جو اس کو اور اس کے زرق برق لباس کو دیکھنے کے لئے نہ نکل آئی ہو، اور جب حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے، تو جبلہ بھی ساتھ گیا، وہ بیت اللّٰہ کا طواف کر ہی رہا تھا، کہ بنی فزارہ کے ایک شخص کا پاؤں اس کے لٹکتے ہوئے، تہبند کی کور پر پڑ گیا، اور وہ کھل گیا، جبلہ نےہاتھ اٹھایا اور فزاری کی ناک پر
---------------------------------
۱ صحح مسلم کتاب الحدود باب حدّ السرقہ و نصابہا۔