کہ اے اللہ کے رسول اگر ہم نے وعدہ وفا کر دکھلایا تو ہمیں کیا ملے گا؟
ایسے نازک موقعہ پر اگر خدا کے پیغمبر کی جگہ کوئی سیاسی لیڈر، کوئی قومی رہنما، یا محض سیاسی سوجھ بوجھ کا کوئی انسان ہوتا تو اس کا جواب یہ ہوتا، کہ افتراق وانتشار کے بعد اب تمہاری شیرازہ بندی ہوگی، ایک قبیلہ کی معمولی حیثیت کے بعد اب پورے عرب میں تمہارا وجود تسلیم کیا جائے گا، اور تم ایک طاقت بن کر اُبھروگے، یہ کوئی خیالی اور ناقابل قیاس بات نہ تھی، بلکہ تمام علامات و قرائن، اس کے امکان اور امر واقعہ بننے پر دلالت کرتے تھے، خود ان اہل یثرب میں سے ایک کہنے والے نے اس سے پیشتر کہا تھا کہ:-
''ہم اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ شاید ہی کسی قوم میں ایسی دشمنی اور انتشار ہو، جیسا ہماری قوم میں ہے، ہمیں امید ہے کہ خدا تعالےٰ آپ کے ذریعہ ان کی شیرازہ بندی کرے، اب ہم ان کے پاس جائیں گے، اور آپ کی دعوت ان کے سامنے پیش کریں گے، جس دین کو ہم نے قبول کیا ہے، ان کو بھی اس کی دعوت دیں گے، اگر خداتعالےٰ آپ کی ذات پر ان کو مجتمع فرمادے تو آپ سے بڑھکر کوئی صاحب اقتدار اور باعزت و شوکت شخص نہ ہوگا۔'' ١
لیکن رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس سوال کے جواب میں کہ ''اے اللہ کے رسول ؑ پھر ہمیں کیاملے گا؟'' صرف اس پر اکتفا فرمایا کہ ''جنت'' اس وقت انھوں نے عرض کیا کہ حضور دست مبارک دراز فرمایئے، آپ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور انھوں نے بیعت کرلی۔۲
اسی غیرت اور کار نبوت کی تکمیل کا اثر ہے کہ پیغمبر کسی شرعی حکم میں کسی تبدیلی کے روادار
------------------------------
١۔ سیرت ابن ہشام ق ا ص 924 ، ۲۔ ایضًا ص 644