قریب کرنے اور اپنی طرف آنے کی دعوت دینے کے لئے وہ ان سے کام نہیں لیتے، وہ اللہ تعالٰے پر اس کی صفات و افعال کے ساتھ، ملائکہ پر، تقدیر پر (شر ہو یا خیر) موت کے بعد اٹھائے جانے پر، ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ بغیر کسی تردد اور معذرت کے یہ اعلان کرتے ہیں، کہ ان کی دعوت قبول کرنے، اور ان پر ایمان لانے کا انعام جنت اور خدائے تعالٰے کی رضا ور خوشنودی ہے۔
دعوت کے سلسلہ میں اس نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزاج و منہاج اور طریقہ کار کی بہترین مثال بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ ہے، جب اہل یثرب کی ایک تعداد جن میں ۷۳ مرد اور دو (۲) خواتین تھیں، حج کے لئے مکہ معظمہ آئے اور عقبہ کے پاس وادی میں اکٹھا ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے عم محترم حضرت عباس بن عبد المطلب کے ساتھ (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) تشریف لائے، آپ نے قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں، خدائے واحد کی طرف دعوت اور اسلام کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تم سے میں یہ عہد اور بیعت لیتا ہوں کہ تم میرے ساتھ حفاظت اور خیال کا وہی معاملہ کرو گے، جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ کرتے ہو، انصار نے بیعت کی اور آپ سے یہ وعدہ لیا کہ آپ ان کو چھوڑ کو پھر اپنی قوم میں واپس نہ جائیں گے۔ وہ زیرک اور دانا تھے، اور اس عہد و پیمان کے دور رس اور خطرناک نتائج سے بخوبی واقف تھے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ تمام قریبی قبائل، بلکہ پورے ملک عرب سے دشمنی مول لے رہے ہیں، ان کے ایک جہاں دیدہ تجربہ کار رفیق (عباس بن عبادہ انصاری) نے بھی ان کو مزید ان نتائج سے آگاہ اور ہوشیار کیا، لیکن انہوں نے جواب میں بیک زبان کہا کہ ہم مال و منال کے نقصان اور اپنے سربرآوردہ افراد خاندان کے قتل و ہلاک ہو جانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے آپ کو لے جا رہے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ملتفت ہوکر انہوں نے عرض کیا