صرف ایک مہینہ کی مہلت دے دی جائے، لیکن آپﷺ ان کی آخری درخواست قبول کرنے کی بجائے، ابو سفیان بن حرب (جن کی طائف میں رشتہ داری تھی) اور قبیلہ بنو ثقیف ہی کے ایک فرد مغیرہ بن شعبہ کو مامور فرماتے ہیں کہ وہ جائیں اور لات اور اس کے معبد کو ڈھادیں، اہل وفد ایک درخواست یہ بھی کرتے ہیں کہ انھیں نماز سے معاف رکھا جائے، آپﷺ فرماتے ہیں، اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں نماز نہیں، اس گفتگو سے فارغ ہو کر وہ اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں، اور ان کے ساتھ ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور مغیرہ رضی اللہ عنہ بھی جاتے ہیں، اور لات کو ڈھاتے ہیں اور پورے قبیلہ بنو ثقیف میں اسلام پھیل جاتا ہے، یہاں تک کہ پورا طائف مسلمان ہوجاتا ہے۔ ؎1
انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت، اور اپنی تفہیم و مکالمہ میں وہی اسلوب اور وہی تعبیرات استعمال کرتے ہیں، جو ان کی دعوت کی روح اور نبوت کے مزاج سے ہم آہنگ ہوتی ہے، وہ کھل کر اور پوری وضاحت کیساتھ آخرت کی دعوت دیتے ہیں، جنت اور اس کی نعمتوں اور لذتوں کا شوق دلاتے ہیں، دوزخ اور اس کے عذاب اور اس کی ہولناکیوں سے ڈراتے ہیں، اور جنت و دوزخ دونوں کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں، گویا نگاہوں کے سامنے ہیں، وہ عقلی دلائل و برائین، اور مصالح و مفادات کے بجائے ایمان بالغیب کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ان کا عہد بھی مادّی فلسفوں اور نظریات سے ( جو ان کے عہد کی سطح اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں) یکسر خالی نہیں ہوتا، اس عہد میں بھی کچھ طبقوں کی خاص اصلطلاحات ہوتی ہیں، وہ ان سے ناواقف نہیں ہوتے، وہ یہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ یہ فلسفے اور اصطلاحات سکہ رائج الوقت ہے، اور انھیں کا اس دور میں چلن ہے، لیکن لوگوں کو
------------------------------
1؎ زادالمعاد۔ ج1 ص 458-459 باختصار