نیز ارشاد ہے؛۔
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔ سورہ المائدہ۔67)
اے پیغمبر! جو ارشادات تم پر خدا کی طرف سے نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہونچادو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے، اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔
نیز فرمایا۔
وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿سورہ القلم۔٩﴾
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موقف توحید بلکہ اسلام کے تمام بنیادی عقائد، حتیٰ کہ دین کے ارکان و فرائض کے بارے میں بھی لچکدار اور مصالحانہ موقف نہ تھا، جو سیاسی قائدین کا (جو بزعم خود اپنے کو حقیقت پسند اور عملی انسان سمجھتے ہیں) ہر زمانہ میں طرہ امتیاز رہا ہے، شہر طائف کے فتح ہوجانے کے بعد قریش کے بعد عرب کے دوسرے سربرآوردہ قبیلہ بنو ثقیف کا وفد اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوتا ہے، اور یہ درخواست کرتا ہے کہ لات نامی صنم کو (جس کی وجہ سے طائف کو مکہ کے بعد مرکزیت اور تقدس حاصل تھا) تین سال تک اپنے حال پر رہنے دیا جائے اور دوسرے اصنام کی طرح اس کے ساتھ معاملہ نہ کیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاف انکار فرمادیتے ہیں، وفد کے لوگ دوسال، پھر ایک سال کی مہلت مانگتے ہیں، آپ مسلسل انکار فرماتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس پر اُتر آتے ہیں کہ ہمارے طائف واپس جانے کے بعد