لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)
اللہ تعالٰے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے " إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿الصافات:٨٤﴾ (جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے ) اس لئے ہر اس چیز سے جو قلب سلیم کے منافی ہو، اور جس کے صنم و معبود بن جانے کا خطرہ ہو، اور جو خدائے عز و جل کی محبت میں شریک و سہیم ہو، اس سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، اور اس سے ہر قیمت پر بچنا لازمی ہے، اللہ تعالٰے کا ارشاد ہے :
أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ ﴿الفرقان:٤٣﴾
کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے۔
اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں، "ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم" (۱) (شیطان ابن آدم کی رگوں) میں خون کی طرح دوڑ جاتا ہے۔
۳۔ دین کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ان عقائد، دعوت و پیغام اور شریعت کے بارے میں جس کو وہ لے کر آتے ہیں، بڑے غیور اور ذکی الحس واقع ہوتے ہیں، وہ کسی حال میں بھی (خواہ دعوت کی مقبولیت اور کامیابی کی مصلحت ہی کا تقاضہ کیوں نہ ہو) اس کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ اپنی دعوت اور شریعت میں کوئی ترمیم یا تغیر و تبدل گوارہ کر لیں، ان کے یہاں مداہنت اور تبدیلی موقف کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اللہ تعالٰے اپنے آخری پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ﴿الحجر:٩٤﴾
پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو۔
------------------------------
-1بخاری و مسلم