دین سب خدا ہی کا ہو جائے۔
یہ بھی فرمایا گیا ہے:
الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَ آتَوُا الزَّكَاةَ وَ أَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَ لِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴿الحج:٤١﴾
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔
اللہ تعالٰی نے مومنین کے لئے سربلندی اور عزت و غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے، لیکن اس شرط پر کہ وہ ایمانی صفات سے متصف ہوں اور ان کا مقصد عمل صرف رضائے خداوندی ہو، نہ کہ عزت و اقتدار کا حصول اور اس کے لئے کوشش، کیونکہ عزت و اقتدار نتیجہ ہے نہ کہ مقصد، انعام ہے نہ کہ غرض و غایت، ارشاد ہے :
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿آل عمران:١٣٩﴾
اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا، اور نہ کسی طرح کا غم کرنا، اگر تم مومن (صادق) ہو تو تمہیں غالب رہو گے۔
قرآن کریم نے جگہ جگہ اس کی صراحت فرمائی ہے کہ خدا کی طرف سے اپنے بندے سے جس کا مطالبہ ہے، اور جو چیز اس کے یہاں کارآمد ہے، وہ قلب سلیم ہے، اس کا ارشاد ہے:
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿٨٨﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿الشعراء٨٩﴾
جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا نہ اولاد، ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل