اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قوت و طاقت جس کے ذریعہ مسلمان احکام خداوندی کا نفاذ کر سکتا ہے، اور دعوت کی راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو ہٹا سکتا ہے، اور جس کے ذریعہ زمین میں فساد اور ظلم اور باطل کے غلبہ کی آگ بجھا سکتا ہے، مثالی اسلامی زندگی اور شریف و متدین ایمانی معاشرہ کے لئے سازگار ماحول تیار کر سکتا ہے، وہ قابل توجہ اور لائق فکر و اہتمام نہیں، ہرگز نہیں، یہ تصور غیر اسلامی ہے اور اس رہبانیت کا پرتو ہے، جس کے لئے خدائے تعالٰی نے کوئی دلیل اور سند نازل نہیں فرمائی۔ اللہ تعالٰی اپنے احسان و انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿سورۃ النور:٥٥﴾
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے، ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے، مستحکم اور پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا، وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے، اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔
یہ بھی ارشاد ہے :
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ ﴿سورۃ الانفال:٣٩﴾
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد باقی نہ رہے، اور