لیکن اس طویل اور زہرہ گداز محنت اور جد و جہد کا نتیجہ کیا رہا؟
وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ ﴿ہود:٤٠﴾
ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے۔
لیکن حضرت نوح علیہ و علی نبینا السلام اس پر شاکی یا افسردہ خاطر نظر نہیں آتے، اور اپنی محنت کو رائیگاں نہیں سمجھتے اور نہ اس سے خدا کے یہاں ان کے مقام، درجہ، قرب اور اولوالعزم پیغمبر ہونے میں کچھ فرق آتا ہے۔ خدا ان سے راضی تھا اور وہ اپنے خدا سے راضی تھے۔ خدا کا پیغام انہوں نے خدا کے بندوں تک پہونچا دیا تھا، اور راہ خدا میں وہ کوشش کا حق ادا کر چکے تھے، جس کے انعام میں یہ تمغہ قرآنی ان کو ملا :
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ﴿٧٨﴾ سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ ﴿٧٩﴾ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿٨٠﴾ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ﴿الصافات:٨١﴾
اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا یعنی تمام جہان میں نوح (علیہ السلام) پر سلام ہو، نیکو کاروں کو ہم ایسے ہی بدلہ دیا کرتے ہیں، بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔
قرآن کریم دعوت و تبلیغ اور جہد و جہاد کے میدان میں تمام کام کرنے والوں کو یہ تعلیم دیتا اور یہ آداب سکھاتا ہے :
تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ﴿القصص:٨٣﴾
وہ جو آخرت کا گھر ہے، ہم نے اسے ان لوگوں کےلئے تیار رکھا ہے، جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور انجام نیک پرہیز گاروں ہی کا ہے۔