یا اس دشمن کے جو کام پر قابو رکھتا ہے۔
اس نقطہ پر آ کر وہ نبوی مزاج جس کی پرورش و پرداخت دست قدرت نے کی تھی، پوری طرح جھلک اٹھتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں :
ان لم یکن بک غضبٔ علی فلا أبالي غیر ان عافیتک ھی اوسع لی۔ (۱)
اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں تو مجھے بھی اس کی پرواہ نہیں لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔
نوح علیہ السلام کو دیکھئے جو اولو العزم پیغمبروں میں سے ہیں، اور جن کے بارے میں قرآن کریم کی شہادت ہے :
فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا ﴿العنکبوت:١٤﴾
وہ اپنی قوم میں پچاس (۵۰) برس کم ہزار (۱۰۰۰) برس رہے۔
جنہوں نے یہ طویل مدت دعوت و تبلیغ کے کام میں ہمہ تن مصروف رہ کر اور لوگوں کو مطمئن کرنے کے تمام مناسب طریقے اختیار کر کے گزاری، قرآن خود ان کا قول نقل کرتا ہے :
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ﴿نوح:٥﴾
(نوح نے) خدا سے عرض کی کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا۔
آگے فرماتے ہیں :
ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ﴿٨﴾ ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ﴿نوح:٩﴾
پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا اور ظاہر و پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا۔
------------------------------
۱۔ زاد المعارج، ص ۳۰۲۔ السیرۃ النبویۃ، ابن کثیر ج ۲، ص ۱۵۰۔