حقیقی محرک اور سبب محض خدائے تعالٰے کی رضا اور خوشنودی کی طلب ہوتی ہے، یہ ایک ایسی تیز تلوار ہے، جو اس مقصد اعلٰی کے علاوہ ہر مقصد کو کاٹتی اور نیست و نابود کر دیتی ہے، پھر نہ متاع دنیا کی طلب رہتی ہے اور نہ ملک و دولت اور سلطنت و ریاست کی چاہت، ن سر بلندی اور عزت کی خواہش، نہ غلبہ و اقتدار کی ہوس، نہ مال و منال اور عیش و تنعم کی تمنا، نہ غضب و انتقام کا جذبہ، نہ جاہلی حمیت کا جوش، ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو جد و جہد اور جہاد پر نہیں ابھارتی۔
یہ حقیقت سب سے روشن ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں جھلکتی ہے، جو آپ نے طائف میں اس وقت کی تھی، جب اہل طائف نے آپ کے ساتھ ایسا جفاکارانہ اور وحشیانہ برتاؤ کیا تھا، جس کی مثال دعوت و رسالت کی تاریخ میں ملنی مشکل ہے، آپ جس مقصد کے لئے وہاں تشریف لے گئے تھے، وہ (بظاہر) پورا نہیں ہوا، طائف کا ایک شخص بھی حلقہ بگوش اسلام نہ ہوا، اس نازک گھڑی اور سخت نفسیاتی حالت میں جو دعائیہ کلمات آپ کے دہن مبارک سے نکلے تھے، وہ یہ تھے :
اللھم الیک اشکو ضعف قولی، وقلۃ حیلتی، و ھوانی علی الناس، ارحم الراحمین، انت رب المستضعفین و انت ربی، الی من تکلنی الی بعید يتجهمني ،أم إلی عدو ملکۃ امری۔
الٰہی اپنی کمزوری، بے سر و سامانی اور لوگوں میں تحقیر کی بابت تیرے سامنے ہیں، فریاد کرتا ہوں، تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، درماندہ اور عاجزوں کا مالک تو ہی ہے، اور میرا مالک بھی تو ہی ہے، مجھے کس کے سپرد کر رہے ہیں، کیا بے گانہ ترش رو کے،