اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا، کیونکہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ "رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین" (۱) (اے میرے رب روز جزا کو میرے گناہ بخش دیجئے گا۔)
اس سے بھی زیادہ واضح اور صریح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک دوسری روایت ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے، اور جب مقام حرۃ الوبرۃ پر پہنچے تو ایک شخص آیا جس کی جرات اور بہادری مشہور زمانہ تھی، اس کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی کو بڑی مسرت ہوئی (کہ اس سے لشکر اسلام میں جو صرف تین سو تیرہ (۳۱۳) افراد پر مشتمل تھا، ایک وقیع اضافہ ہو گا، اس وقت ایک آدمی کی بھی بڑی قیمت تھی، چہ جائیکہ ایک آزمودہ کار سپاہی) جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کی کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ چلوں اور مال غنیمت میں شریک ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں! آپ نے فرمایا واپس جاؤ، اس لئے کہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لے سکتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ کچھ دور چلا یہاں تک کہ ہم لوگ جب مقام شجرہ پر تھے، وہ پھر آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وہی پہلی بات عرض کی، آپ نے وہی پہلا جواب دیا، فرمایا جاؤ میں مشرک سے مدد نہیں لیتا، وہ چلا گیا اور بیداء پہونچنے پر پھر آیا۔ آپ نے پھر دریافت فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا ہاں! اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، تو چلو۔" (۲)
۲۔ دوسری بات یہ کہ انبیائے کرام علیہیم الصلوٰۃ والسلام کی (جن میں سر فہرست آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی ہے) دعوت و تبلیغ اور جہد و جہاد کا
------------------------------
۱۔ مسلم کتاب الایمان۔
۲۔ صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر۔