واقعہ یہ ہے کہ اگر کوئی اس کا مستحق تھا کہ اس کے عقیدہ سے صرف نظر کر لیا جائے کیونکہ وہ زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے سینہ سپر اور جان و مال سے قربان رہا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابو طالب تھے، سیرت نگار بالاتفاق ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے سپر اور حصار بنے ہوئے تھے، اور اپنی پوری قوم کے خلاف آپ کے ممد و معاون اور ناصر و حامی تھے، لیکن صحیح روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابو طالب کی موت کے وقت جب کہ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ "اے چچا آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے، میں اس کلمہ کی خدائے تعالٰے کے یہاں گواہی دوں گا" تو ابو جہل اور ابن ابی امیہ کہنے لگے، ابو طالب! کیا تم عبد المطلب کے مذہب سے روگردانی کرو گے؟ تو ابو طالب نے یہ کہتےہوئے جان دی کہ عبد المطلب کے مذہب پر ہوں۔ صحیح روایات میں آتا ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابو طالب آپ کی حفاظت اور مدد کرتے تھے اور آپ کے بارےمیں ان کے اندر بڑی حمیت تھی، جس کی بنا پر وہ لوگوں کی رضامندی اور ناراضگی کی مطلق پرواہ نہیں کرتے تھے، تو کیا اس کا فائدہ ان کو پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے ان کو آگ کی لپٹوں میں پایا اور معمولی آگ تک نکال لایا۔" (۱)
اسی طرح امام مسلم نے بروایت حضرت عاشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں "میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن جدعان جاہلیت کے زمانہ میں بڑی صلی رحمی کرتے تھے، مسکینوں اور غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے، تو کیا ان کے لئے یہ سودمند ہو گا؟ آپ نے فرمایا، نہیں! ان کو
----------------------------------
۱۔ صحیح مسلم کتاب الایمان۔