تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے، اور تیرے ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں، اور تیرے ہی حضور میں ہمیں لوٹ جانا ہے۔
عقیدہ کی اہمیت اور اس کے وصل و فصل کا معیار ہونے کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے، کہ سورۃ کافرون مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی، جب حالات نرمی، تلطف اور عبادت و عقیدہ کی بنیاد پر دشمنی پیدا نہ کرنے، اور اس مسئلہ کو اس وقت تک کے لیے ملتوی رکھنے کے متقاضی تھے، جب اسلام کو طاقت حاصل ہو جائے، اور معتدل و پرسکون حالات ہوں، لیکن قرآن صاف صاف کہتا ہے، اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کھل کر اعلان کرتے ہیں :
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿١﴾ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٣﴾ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿٤﴾ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٥﴾ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿٦﴾ (سورۃ الکافرون)
اے پیغمبر ان منکران اسلام سے کہدو کہ اے کافرو جن (بتوں) کو تم پوجتے ہو، میں نہیں پوجتا، اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں، اس کی تم عبادت نہیں کرتے اور میں پھر کہتا ہوں کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو، ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں، اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو، جس کی میں بندگی کرتا ہوں، تم اپنے دین، میں اپنے دین پر۔