مُّنِيبٌ ﴿ہود:٧٥﴾
اور رجوع کرنے والے تھے۔
اور ان کے رفقاء و تبعین کا طرز عمل اصول زندگی اور مزاج و مذاق، اسی طرح بیان فرمایا ہے :
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۖ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿الممتحنہ:٤﴾
تمہیں ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے، جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان بتوں سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو، بے تعلق ہیں (اور) تمہارے معبودوں کے (کبھی) قائل نہیں ہو سکتے اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی، ہاں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا (۱)، اور میں خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا، اے ہمارے پروردگار
------------------------------
۱۔ شاید بعض دلوں میں یہ خلجان پیدا ہو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بت پرست باپ سے دعا اور استغفار کا وعدہ کیوں کیا؟ اس کا جواب سورہ براءۃ کی آیات ۱۱۳-۱۱۴ میں موجود ہے کہ انہوں نے اس وعدہ کا ایفا کیا، لیکن جب ان کو معلوم ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے، اور انہوں نے اظہار براءت کیا، اور اب ہمیشہ کے لئے یہی اصول بنا دیا گیا۔