جب تک کہ اس کی یہ ساری کوششیں اور کاوشیں صرف اس عقیدہ کی بنیاد پر نہ ہوں، یہی وہ حدِّ فاصل اور واضح و روشن خط ہے، جو انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی دعوت اور قومی رہنماؤں، سیاسی لیڈروں، انقلابیوں اور ہر اس شخص کے درمیان کھینچ دیا گیا ہے، جس کا سرچشمۂ فکر و نظر انبیائے کرام کی تعلیمات اور سیرتوں کی بجائے کوئی اور ہو ۱؎ ۔
قرآن مجید جو تحریف سے محفوظ اور قیامت تک باقی رہنے والی واحد آسمانی کتاب ہے، اور سیرت خاتم النبیینؐ جو انبیائے کرام کی سیرتوں میں تنہا وہ سیرت ہے، جس پر تاریخی و علمی طور پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، اور جس سے ہر دور میں عملی استفادہ ممکن ہے، اس حقیقت اور دعوے کے بکثرت شواہد و دلائل فراہم کرتے ہیں، ذیل میں صرف چند مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں سب سے نمایاں وہ آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی و خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام ... کے تحمل اور نرم دلی کی خاص طور پر تعریف کی ہے:۔
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ بے شک ابراہیمؑ بڑے تحمل والے نرم دل،
------------------------------
۱؎ موجودہ دور کے بگڑے ہوئے حالات سے دلبرداشتہ بہت سے لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ہر اس شخص کے جو انقلاب کا نعرہ لگائے یا کسی بڑی طاقت کو چیلنج کرے، عقیدہ کے ہر بگاڑ، اور افکار و نظریات کی ہر کجی اور انحراف کو معاف کر دیتے ہیں، اور عقیدہ کے مسئلہ سے بالکل صرف نظر کر لیتے ہیں، بلکہ الٹے ان لوگوں کو ہدف ملامت بنا لیتے ہیں اور کبھی باطل طاقتوں سے ساز باز کر لینے کا الزام بھی لگاتے ہیں جو اس موقعہ پر ... عقیدہ کی بحث اٹھائیں اور اس شخص کے عقائد کے بارے کوئی سوال کریں، یہ طرز فکر اور طرز عمل صحیح دینی مزاج اور نبوی طریق سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔