پہونچا ہے، جن کے پاس خدائے تعالٰے کی وحی آتی تھی، اور جن کا سلسلہ خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت پر ختم ہو چکا ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے دن یہ آیت نازل ہوئی تھی :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ﴿المائدۃ:٣﴾
آج ہم نے تمہارے لئے دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔
اور جن کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے :
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿النجم:٤﴾
اور نہ خواہش نفس سےمنہ سے بات نکالتے ہیں، یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے، جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے۔
اس دین کا سب سے پہلا امتیاز اور نمایاں شعار "عقیدہ" پر زور اور اصرار اور سب سے پہلے اس کا مسئلہ حل کر لینے کی تاکید ہے، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک تمام انبیائے کرام ایک معین عقیدے کی (جو ان کو وحی کے ذریعہ ملا تھا) دعوت دینے اور اس کا مطالبہ کرتے رہے، اور اس کے مقابلہ میں کسی مفاہمت یا دست برداری پر تیار نہ ہوئے۔ ان کے نزدیک بہتر سے بہتر اخلاقی زندگی اور اعلٰی سے اعلٰی انسانی کردار کا حامل، نیکی و صلاح، سلامت روی اور معقولیت کا زندہ پیکر اور مثالی مجسمہ خواہ اس سے کسی بہتر حکوت کا قیام، کسی صالح معاشرہ کا وجود اور کسی مفید انقلاب کا ظہور ہوا ہو، اس وقت تک کوئی قدر قیمت نہیں رکھتا، جب تک وہ اس عقیدہ کا ماننے والا نہ ہو، جس کو وہ لے کر آئے، اور جس کی دعوت ان کی زندگی کا نصب العین ہے، اور