احساس و مشاہدہ نے خود اس کی تحریک کی ، اور اپنی بضاعت و صلاحیت کے مطابق اس کام کو انجام دینے کے لئے شرح صدر ہوگیا ، بلکہ احساس ہونے لگا کہ اس کام میں مزید تاخیر ایک اہم دینی فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرادف ہوگی ، جس پر شاہد محاسبہ ہو ، اس لئے خدائے تعالیٰ پر بھروسہ کرکے اور استخارہ اور دعا کے بعد کام شروع کردیا گیا ، جو ( چند در چند موانع کے باوجود ) محض توفیق الہی سے پایہ تکمیل کو پہونچا ،
کتاب میں ذاتی تجربات کا خلا صلی اللہ علیہ وسلم اور مطالعہ کا نچوڑ بھی پیش کردیا گیا ہے ، جو دعوت و تصنیف کے عملی تجربوں ، اور امت کے مختلف طبقات سے عملی واقفیت پر مبنی ہے ، اپنی گذشتہ تصنیفات کے ان اقتباسات کے پیش کرنے میں بھی تامل سے کام نہیں لیا گیا ، جو مقصد و مافی الضمیر کو ادا کرنے کے لئے زیادہ موزوں و مناسب تھے ، اللہ تعالیٰ کی کریم اور نکتہ نواز ذات سے امید ہے کہ اس کتاب سے مصنف کو بھی نفع حاصل ہوگا ، اور ان طالبین صادقین کے لئے بھی مفید و کار آمد ثابت ہوگی ، جو اس کو عمل اور فائدہ کی نیت سے پڑھیں گے ،
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
ابو الحسن علی ندوی
دائرہ شاہ علم ا للہ حسنی ؒ رائے بریلی
7 شعبان 1403 ھ
31 مئی 1982 ء