اور جب آپ آرام فرمانے کا ارادہ فرماتے تو داہنا ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے، اور پھر فرماتے:
رب قنی عذابک یوم تبعث عبادک۔
اے میرے رب جب تو اپنے بندوں کو اٹھائیگا، تو اپنے عذاب سے مجھے محفوظ رکھنا۔
اور جب بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے :
اللھم باسمک اموت و احییٰ۔
اے اللہ آپ ہی کے نام پر میں مروں اور زندہ رہوں۔
اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا کرتے :
الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا و الیہ النشور۔
اس خدا کی تمام تعریفیں ہیں، جس نے مارنے کے بعد ہم کو جلایا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بسر جس پر استراحت فرماتے تھے، چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کی چھال بھری تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مریض کی عیادت کرتے اور جنازہ میں شریک ہوتے تھے، غلام کی بھی دعوت قبول فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک پرانے پالان پر سوار ہو کر حج فرمایا، جس پر ایک کپڑا پڑا ہوا تھا، جو چار (۴) درہم کا بھی نہیں ہوگا، اور فرماتے کہ اگر مجھے بکری کا ایک پیر بھی دیا جائے تو میں قبول کر لوں، اور اس کی دعوت کی جائے تو میں ضرور جاؤں، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عادت شریفہ تھی کہ ناگوار بات کو رو در رو منع نہیں فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہدیہ قبول فرماتے اور اس پر بدلہ بھی دیتے تھے، شرم و حیا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کنواری لڑکی سے بھی