(تو ایک انگلی ہے، جس کو اس کے سوا کوئی مضرت نہیں پہونچی کہ خون آلود ہو گئی، اور (یہ رائگاں نہیں گیا، بلکہ) اللہ کی راہ میں یہ تکلیف پہونچی۔)
اور جنگ حُنین کے موقع پر آپ یہ رجز پڑھ رہے تھے:۔
انا النبی لا کَذِب انا ابن عبدالمُطّلب
(میں بلا شک و شبہ نبی ہوں، اور میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں)
آپ ﷺ نے شعر پڑھنے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی، اور اس پر انعام بھی دیا، اور اس کو پسند بھی فرمایا، حضرت جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سو 100 سے زیادہ مجلسوں میں بیٹھا ہوں، جن میں صحابہ اشعار پڑھتے تھے، اور زمانہ جاہلیت کے زمانہ کے قصے اور واقعات نقل کرتے تھے، اور آپ ﷺ (ان کو روکتے نہیں تھے) خاموشی سے سنتے تھے، بلکہ کبھی کبھی ان کے ساتھ تبسم بھی فرماتے تھے، حضرت حسّان بن ثابت ؓ کے لئے مسجد میں منبر رکھوایا کرتے تھے، تاکہ اس پر کھڑے ہو کر حضور ﷺ کی تعریف میں مدحیہ اشعار پڑھیں، اور آپ ﷺ کی طرف سے مدافعت کریں، اور یہ بھی فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ شانہ روح القدس کے ذریعہ حسَّان کی مدد فرماتے ہیں، جب تک وہ دین کی طرف سے دفاع، یا رسول اللہ (ﷺ) کی طرف سے جواب دیتے رہیں
------------------------------
(باقی ص183 کا) اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ زبان پر موزوں کلام کا جاری ہوجانا اس کے منافی نہیں، دوسری بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ یہ دوسرے کا شعر ہے، جس کو آپ نے بطور استشہاد اس موقعہ پر پڑھا۔
1۔ آپ ﷺ نے کعب بن مالک ؓ کا قصیدہ سنا، اور اسن کو چادر عنایت فرمائی