آنحضرت ﷺ ہمارے ساتھ میل جول اور مزاح فرماتے تھے، چنانچہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، حضورﷺ اس سے فرماتے يااباعمير ما فعل النغير؟ (ارے ابوعمیر وہ چڑیا کا بچہ کہاں گیا) صحابہ کرام ؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا حضور ﷺآپ ہم سے خوش مزاجی بھی فرمالیا کرتے ہیں، ارشاد فرمایا، ہاں، مگر میں کبھی غلط بات نہیں کہتا، آپ ﷺ مثال کے طور پر کبھی حضرت عبداللہ بن رواحہ کے شعر بھی پڑھتے تھے، اور کبھی کسی اور شاعر کا، چنانچہ کبھی طرفہ کا یہ مصرعہ بھی پڑھ دیا کرتے ؔ
ویاتیک بالاخبار من لم تزوّد
(یعنی تمہارے پاس کبھی وہ بھی خبریں لے کر آتا ہے، جس کو تم نے کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا۔)
اور کبھی فرماتے کہ سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے، وہ لبید بن ربعہ کی یہ بات ہے
الا کلّ شئی ماخلا اللہَ باطل
(آگاہ ہو جاؤ، اللہ جل شانہ کے سوا دنیا کی ہر چیز فانی ہے)
ایک مرتبہ ایک پتھر آپ ﷺ کی انگلی پر لگ گیا جس کی وجہ سے وہ خون آلود ہوگئی، تو حضور ﷺ نے یہ شعر پڑھا ؔ
ھل انت الّا صبع دمیت
وفی سبیل اللہ ما لقیت ﴿۲﴾
------------------------------
﴿١﴾ ابوعمیر کے پاس ایک چڑیا کا بچہ تھا جس کو پنجرہ میں بند کر رکھا تھا، اور اس سے کھیلتے تھے، وہ مر گیا تو آپ نے مزاحاََ یہ فرمایا۔
﴿۲﴾ اس شعر کے بارے میں بظاہر یہ اشکال ہے کہ قرآن پاک میں آپ ﷺ کی توصیف میں فرمایا گیا ہے وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ ۚ (یٰسین۔69) (باقی ص پر)