وہ ہمارا پروردگار ہے۔
اور فرماتے کہ "اللہ تعالٰی اس سے خوش ہوتا ہے کہ بندہ کچھ کھائے اور پئے، تو اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے۔"
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سب سے پسندید مشروب ٹھنڈا اور میٹھا پانی تھا۔ اور فرماتے "کھانے اور پانی کا بدل دودھ کی طرح کوئی چیز نہیں" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمزم کھڑے ہو کر پیا اور پانی تین(۳) سانس میں نوش فرماتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عطردان تھا، جس میں سے عطر لگایا کرتے تھے، اور عطر (اگر کوئی ہدیہً پیش کرتا) رد نہیں کرتے تھے، اور یہ فرماتے تھے کہ تین(۳) چیزیں رد نہیں کرنی چاہئیں، ۱۔ تکیہ، ۲۔ تیل خوشبو اور ۳۔ دودھ اور فرمایا کہ مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو پھیلتی ہوئی ہو اور رنگ غیر محسوس ہو اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ غالب ہو اور خوشبو مغلوب۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گفتگو تم لوگوں کی طرح لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی، بلکہ صاف صاف، ہر مضمون دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا کہ پاس بیٹھنے والے اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیتے تھے اور (بعض مرتبہ) کلام کو (حسب ضرورت) تین(۳) تین(۳) مرتبہ دہراتے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہنسنا صرف تبسم ہوتا تھا۔ عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ تبسم کرنے والا نہیں دیکھا اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح بھی ہنسے کہ دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ ضریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے مسلمان ہونے کے بعد سے کسی وقت مجھے حاضری سے نہیں روکا اور جب مجھے دیکھتے تھے تو تبسم فرماتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ