حضرت قتادہ رضہ سے پوچھا گیا، کہ کھانا کس چیز پر رکھ کر تناول فرماتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہی چمڑے کے دستر خوان پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو و لوکی مرغوب تھی، اور حلوہ اور شہد بھی مرغوب خاطر تھا، گوشت میں دست کا گوشت پسند کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ بات نہیں تھی کہ دست کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہو بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی گوشت کبھی گوشت میسّر آتا تھا، اور یہ جلدی گل جاتا ہے، اس لئے یہ پسند تھا، تا کہ جلدی سے فارغ ہو کر اپنے مشاغل عالیہ میں مصروف ہوں، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہانڈی اور پیالہ کا بچا ہوا کھانا مرغوب تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے"کہ جو شخص بغیر خدا کا نام لئے کھانا کھاتا ہے، اس کے ساتھ شیطان شریک ہوتا ہے" اور یہ بھی فرمایا،"اگر کوئی کھانا شروع کر دے،ا ور بسم اللہ کہنا بھول جائے تو یوں کہ لے:-
بِسْمِ اللہ اَوَّلُہٗ وَ اٰخِرَہٗ۔
اللہ کے نام سے اس کے شروع میں (بھی )اور آخر میں (بھی)۔
کھانے سے راغت پر فرماتے تھے:-
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَ سَقَانَا وَ جَعَلَنَا مُسْلِمِينَ۔
اس خدا ہی کی تمام تعریفیں ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔
اور جب سامنے سے دستر خّان اٹھا دیا جاتا تو فرماتے:-
اَل٘حَم٘دُ لِلہِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا
اللہ تعالٰے کی بہت، اچھی اور بابرکت حمد ہے، وہ اللہ جس سے نہ بے نیاز ہوا جا سکتا ہے، نہ اس کوخیر باد کہا جا سکتا ہے