پہنا اور وضو کے بعد ان پر مسح بھی فرمایا، اور ایسے جوتوں میں نماز پڑھی جن میں دوسرا چمڑا سلا ہوا تھا، اور یہ فرماتے کہ ایک جوتہ پہن کر کوئی نہ چلے، یا دونوں پہن کر چلے، یا دونوں نکال دے، بائیں ہاتھ سے کھانے، یا صرف ایک جوتا پہن کر چلنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے، اور فرماتے، جوتا پہنو تو پہلے داہنا پیر ڈالو اور اتارو تو پہلے بایاں پیر نکالو" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہے، اور ایک انگوٹھی بہنوائی جس کا نقش یہ تھا، محمد صہ ایک سطر، رسول ادوسری سطر میں، اور اللہ تیسری سطر میں، اور جب بیت الخلا جاتے تو انگوٹھی اتار دیتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ہیں، تو سر پر سیاہ عمامہ تھا، عمامہ جب پہنتے تو اس کا شملہ دونوں مونڈھوں کے درمیان ڈال لیتے، حضرت عُبید بن خالد المحاربی رضہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا کہ میں نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سے یہ کہتے سنا کہ لُنگی اوپر کو اٹھاو، میں نے کہنے والے کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا تو وہ حضور رسالت مآب صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا کہ حضور یہ ایک معمولی سی چدریہ ہے ( اس میں کیا تکبر ہو سکتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تمہارے لئے میرا اسوہ نہیں ہے؟" (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر) آپ کی لنگی کو دیکھا تو آدھی پنڈلیوں تک تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے، اور فرماتے تھے کہ "میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا، اور (کھانے سے فراغت پر) تین۳ مرتبہ اپنی انگلیاں چاٹتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کھانا چوکی پر تناول فرمایا۱؎ نہ چھوٹی طشتریوں ۲؎ میں، اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پتلی روٹیاں ( چپاتی کی طرح) پکائی گئیں،
------------------------------
۱؎ اس طرح کہ آپ نیچے تشریف رکھتے ہوں، اور کھانا چوکی پر رکھا ہوا ہو۔ ۲؎ جو محض زینت اور تکلف کے طور پر ہوتی ہیں۔