نہ چھوٹے بلکہ متوسط درجہ کے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مانگ بھی نکالی ہے، سر مبارک میں کثرت سے تیل استعمال فرماتے تھے اور بکثرت داڑھی میں کنگھی کرتے، جب وضو فرماتے یا کنگھی کرتے یا پاپوش کو عزت بخشتے تو داہنی طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک سرمہ دانی تھی جس سے ہر رات کو تین(۳) بار ایک آنکھ میں اور تین(۳) بار دوسری آنکھ میں سرمہ لگایا کرتے۔ لباس میں کُرتا سب سے زیادہ پسند تھا۔ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو (اظہار مسرت کے طور پر) اس کا نام لیتے مثلاً اللہ تعالٰے نے یہ کُرتا مرحمت فرمایا، ایسے ہی عمامہ، چادر وغیرہ، پھر یہ دعا پڑھتے:
اللھم لک الحمد کما کسوتنیہ، اسالک خیرہ و خیر ما صنع لہ و اعوذبک من شرہ و شرما صنع لہ۔
اے اللہ تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں اور اس کے پہنانے پر تیرا ہی شکر ہے۔ یا اللہ تجھی سے اس کپڑے کی بھلائی چاہتا ہوں اور ان مقاصد کی خوبی چاہتا ہوں جن کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا اور اس کے شر سے اور ان مقاصد کے شر سے جن کے لئے یہ بنایا گیا تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اور فرماتے کہ سفید کپڑوں کو اختیار کیا کرو، سفید کپڑا ہی زندگی کی حالت میں پہننا چاہیے اور سفید ہی کپڑوں میں مردوں کو دفن کرنا چاہیے۔ یہ بہترین لباسوں میں سے ہے۔ نجاشی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دو سیاہ سادے موزے بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو